اہلکار فوج سے نکل جائیں اور عوام سڑکوں پر رہے، اہوازی جماعت
تہران(این این آئی)اہوازی ڈیموکریٹک سولیڈیریٹی پارٹی کے سیاسی بیورو کے رکن حافظ الفاضلی نے نہ صرف ایرانی افواج میں شامل اہلکاروں سے فوج چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا بلکہ انہوں نے فوج چھوڑنے والوں کو یہ پیشکش بھی کر دی ہے کہ پارٹی ایسے اہلکاروں کو ایران سے باہر محفوظ علاقوں تک پہنچانے کیلئے بھرپور طور پر تیار ہے۔اہوازی ڈیموکریٹک سالیڈیریٹی پارٹی وہ عرب پارٹی ہے جو "کانفرنس آف فیڈرل ایران” میں کرد، ترک، آذری، بلوچی، ترکمان اور لوریان جماعتوں کی اتحادی ہے۔ اس کا ان ایرانی جماعتوں کے ساتھ اتحاد ہے جو ایران میں غیر فارسی عوام کے حقوق کو تسلیم کرتی ہیں۔اس تناظر میں 16 ستمبر سے ایران میں شروع ہونے والے مظاہروں کے نویں ہفتے کے آغاز پر رات گئے کئی ایرانی شہروں میں اجتماعات کی تجدید کی گئی۔ ایرانیوں کی مقبول "بغاوت” کے تسلسل میں اور نومبر 2019 کے احتجاج کی سالگرہ کے موقع پر، پیر، منگل اور بدھ کو ایرانی شہروں کے قبرستانوں میں مظاہرے اور اجتماعات منعقد کرنے کے لیے مختلف کالز دی جا رہی ہیں۔ایک بیان میں "تہران کے پڑوسی نوجوان” گروپ نے مظاہروں کی کال کا اعلان کیا اور لکھا "ہم ایک ہی وقت میں اور تمام محلوں میں غصے سے چیختے ہوئے، عصمت دری کرنے والوں کے لیے تمام سڑکوں کو جہنم میں بدل دیں گے، سڑکیں اب بھی اب بھی ہماری فتوحات کا مرکز ہے۔ ظالم اور قاتل حکومت کا خاتمہ قریب ہے۔شمالی ایران میں کرکان شہر کے محلوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے ایک گروپ نے اعلان کیا کہ وہ پانچ بجے شہر کے تمام اہم چوکوں میں مظاہرے کریں گے۔ یاد رہے مظاہروں کے دو ماہ بعد اتوار کو ایرانی یونیورسٹیوں میں طلبہ کے اجتماعات دیکھنے میں آئے۔دوسری طرف ایرانی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے گولیاں اور آنسو گیس چلائی، یہ مظاہرین تہران کے ڈی ہسپتال کے اطراف جمع تھے۔ اس ہسپتال میں ایک کارکن حسین رونقی موجود تھا۔ادھر جرمن ایرانی انسانی حقوق کی کارکن ناہد تقوی کو بھی جولائی میں طبی علاج کے لیے ایران میں جیل چھوڑنے کی اجازت ملنے کے بعد دوبارہ قید کر دیا گیا۔ ان کی بیٹی نے بتایا کہ ناہد تقوی کو اتوار کو پھر جیل واپس جانے پر مجبور کیا گیا۔یاد رہے احتجاجی مظاہروں میں شریک ایک شہری کو عدالت نے ایک روز قبل سزائے موت کا حکم بھی سنا دیا ہے۔دیگر پانچ افراد کو قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ایرانی عدلیہ نے مظاہروں کے پس منظر میں 3 صوبوں میں تقریبا 800 نئے مظاہرین پر فرد جرم عائد کی ہے۔


