ہمسایہ ملک پاکستان میں تخریب کاری کی پشت پناہی کررہا ہے، سنی علماء کونسل

چاغی (انتخاب نیوز) سنی علماء کونسل پاکستان کے مرکزی صدر مولانا اورنگزیب فاروقی، صوبائی صدر مولانا محمد رمضان مینگل، صوبائی جنرل سیکرٹری علامہ ثناء اللہ فاروقی، مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری حافظ محمد قاسم، ضلعی صدر حافظ محمد ظاہر ودیگرنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تحفظ صحابہؓ کا قانون بنایا جائے، چاغی کے صدر مقام دالبندین میں تحفظ ناموس صحابہؓ و استحکام پاکستان سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گستاخ صحابہؓ کو سزا ملنی چاہیے، پاکستان میں خلافت راشدہ کا نظام نافذ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان میں تخریب کاری کی پشت پر ہے، جس نے مجھ پر بھی حملے کروائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کچھ لوگوں نے ایران کے خمینی انقلاب کا خیر مقدم کیا لیکن آج خود ایران کے شہر شہر میں مرگ بر خمینی کا نعرہ گونج رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایرانی شہر زاہدان کی مسجد پر گولیاں چلیں، علماء کو لاپتہ کیا گیا، انسانی حقوق کی تنظیمیں کیوں خاموش رہیں۔ ان کے مطابق ایران نے مجھ پر حملے کروائے، ایک ایک بندے کو 25 ہزار روپے ماہانہ خرچہ دیا۔ کانفرنس سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اصحاب رسولؐ کے در کے چوکیدار ہیں، صحابہؓ کی عزت و ناموس کے دفاع کا حلف اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توہین صحابہؓ کا مقصد ختم نبوت پر حملہ کرنا ہے۔ ایرانی حکومت نے زاہدان میں مسجد کے تقدس کو پامال کرکے سنی مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے، ایرانی حکومت کو بتانا چاہتا ہوں کہ جس اورنگزیب فاروقی پر آپ نے کئی حملے کروائے آج وہ آپ کی سرحد کے پاس آکر للکار رہا ہے۔ کانفرنس میں بڑی تعداد میں کارکنان شریک ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں