مسنگ پرسن کمیشن کے کردار سے معاملات بہتر ہونگے قدوس بزنجو،دو ٹوک کہنا ہوگا، مظلوم کون ہے، اختر مینگل

کوئٹہ(این این آئی)وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے بلوچ طلباء اور مسنگ پرسنز کے مسائل پر قائم کمیشن سے بلوچستان کے عوام کے اہم مسئلے کے حل اور پاکستان کی مضبوطی کی جانب پیش رفت ہوگی، تمام ادارے متفق ہیں کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ حل ہونا چاہے کسی کے انفرادی فعل پر اداروں کو مورود الزام ٹھہرانا درست عمل نہیں۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو کوئٹہ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے بلوچستان کے طلباء کے مسائل اور جبری گمشدگیوں پر قائم کمیشن سے ملاقات اور ظہرانے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر کمیشن کے سربراہ سردار اختر جان مینگل،کمیشن کے اراکین، صوبائی وزراء، ارکان اسمبلی،چیف سیکرٹری بلوچستان سمیت دیگر حکام بھی موجودتھے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سردار اختر جان مینگل کی سربراہی میں بلوچستان کے طلباء کے مسائل اور مسنگ پرسنز کے معاملے پر کمیشن کا قیام خوش آئند ہے کسی کو انکی چیئرمین شپ ناگوار نہیں گزرے گی اس کمیشن سے بلوچستان کے عوام مسائل حل ہونے اور پاکستان کی مضبوطی کی جانب پیش رفت ہوگی۔مجھے امید ہے کہ کمیشن کے کردار سے چیزیں بہتری کی جانب جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنا چاہیکہ مستقبل میں شورش سمیت دیگر مسائل ہمارے سامنے نہ آئیں۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے قائم کمیشن کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ کمیشن کے نکات اور سفارشات پر من و عن عملدآمد بھی ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ کسی فرد، سیاسی جماعت، حلقے اور صوبے ہی کا نہیں بلکہ انسانیت کا مسئلہ ہے بحیثیت انسان ہوتے ہوئے ہم سب کو اس مسئلے کو حل کرنے کی طرف سوچنا پڑیگا کہ یہ کیوں ہورہا ہے، کب سے ہورہا ہے اور کب تک ہوتا رہے گا بلوچستان کے ہر حلقے،قبیلے،قوم کے لوگ اس کرب سے گزرہے ہیں اور یہ چیخ و پکار سنائی دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں اور سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ فالٹ لائن تلاش کریں اور خامیوں کی نشاندہی کریں اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو کوئی اور اس مسئلے کا حل تلاش نہیں کریگا ہمیں دوسروں کی طرف نہیں چاہیبلکہ ہم اپنی ذمہ داری کا ادراک کرتے ہوئے مسائل کو حل کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ میری خوش نصیبی اور بہت سے لوگوں کی بدنصیبی ہے کہ میں اس کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا ہوں۔کوئٹہ(این این آئی) اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب بلوچستان کے طلباء کے مسائل پر قائم کمیشن کے سربراہ ورکن قومی اسمبلی سر دار اختر جان مینگل نے کہا کہ ہمیں دو ٹوک الفاظ میں کہنا ہوگا کہ کون مظلوم اور کون ظالم ہے، بیرون مما لک لوگ یونیورسٹیز تفریح اور لائبریز کے استعمال کے لئے جا تے ہیں لیکن بد قسمتی سے ہماری جامعات کے گیٹ پر سیکورٹی کھڑی ہو تی ہے۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو جامعہ بلو چستان میں منعقد تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کہی۔اس موقع پر کمیشن کے اراکین جامعہ بلو چستان کے وائس چانسلر سمیت دیگر بھی موجود تھے۔سر دار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ ہم اپنی عوام سے الگ نہیں جو کچھ لاپتہ افراد کے لو احقین نے بیان کیا ہے وہ ہم 70سالوں سے بھگت رہے ہیں اور آخر ہم کب تک بھکتے رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ جیسے طاقت ور ہمیشہ طاقت ور نہیں رہتا ویسے ہی کمزور ہمیشہ کمزور نہیں رہتا۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا معاشرہ بد بو سے بھر گیا ہے ہم اب ان اداروں کے لو گوں کو جو تنخواہیں لیکر معاشرے میں بد بور پھیلاتے ہیں انہیں معزز نہیں کہہ سکتے ہمیں اپنے ارد گر د دیکھنا ہوگا کہ ہمارے رشتہ دار، ہمسائے، عزیز واقارب کیا وہ تو اس بد بو کی نظر تو نہیں ہو گئے۔ انہوں نے کہاکہ ہم کب تک خاموش رہیں گے اگر خوف کی وجہ سے خا موشی حل ہے تو ہم خاموش رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اپنے مستقبل اور اپنی آنے والی نسل کے لئے ہمیں دو ٹوک الفاظ میں یہ کہنا ہوگا کہ کون مظلوم اور کون ظالم ہے جب تک ہم خود مظلوم اور ظالم میں فرق نہیں کر یں گے تب تک ہم کسی سے یہ امید نہیں لگا سکتے کہ کوئی ظالم کو ظالم کہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک اچھا ما حول بنا یا جائے جہاں عوام آکر خود کو محفوظ محسوس کر سکے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کسی ادارے کے گیٹ پر سیکورٹی فورسز کھڑی ہوں اور تلا شیاں ہو تی ہوں بیرون مما لک لوگ یونیورسٹیز تفریح کے لئے اور لائبریز کے استعمال کے لئے جا تے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے بنایا گیا کمیشن تاریخی رپورٹ مر تب کرے گا جوآنے والے دنوں میں تاریخ بن کر رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ جامعہ بلو چستان کے سابق وائس چانسلر کے دور میں یونیورسٹی کے واش رومز اور طلباء کے کمروں میں نصب کیمروں پر کمیٹی قائم کی گئی تھی جس میں رکن صوبائی اسمبلی ثناء بلوچ، شکیلہ نوید دہوار شامل تھے واقعہ سے متعلق ایک رپورٹ کمیٹی کے سربراہ نے جمع کروائی تھی لیکن ثناء بلوچ، شکیلہ نوید دہوار اپنی جا نب سے بھی ہمیں رپورٹ پیش کریں۔ انہوں نے کہاکہ امید صرف اللہ اور ان سے رکھیں جنکا ضمیر زندہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے اپریل میں پاکستان کے مختلف تعلیمی اداروں سے مسنگ طالب علموں، انکی اغواء نماء گرفتاریاں اور بلو چستان سے تعلق رکھنے والے طلباء کو مختلف تعلیمی ادروں میں حراساں کرنے کے حوالے سے کمیشن قائم کیا گیا اور ماہ اکتوبر میں کمیشن کے کنو ینئر کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی اب تک اسلام آباد کی جانب سے قائم کی گئی کمیشن کے 7اجلاس منعقد ہو چکے ہیں گزشتہ روز کمیشن نے لاپتہ کے لو احقین کے کیمپ کا دور ہ کیا ہمیں ذمہ داری سوپنی گئی ہے کہ لا پتہ افراد کے لواحقین سے معلومات حاصل کر کے حقائق پر مبنی رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کریں گے۔ا نہوں نے کہاکہ جامعہ بلو چستان کے 2طلباء کو لاپتہ کیا گیا ہے جس کا مسئلہ ابھی تک حل نہیں کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں