وزیر اعلی کے زیر صدارت اعلی سطحی اجلاس،ٹرانسپورٹ نہ کھولنے کا فیصلہ

تفصیلات کے مطابق وزیر اعلی بلوچستان جام کام خان کی زیرصدارت اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا ہے، اعلی سطحی اجلاس میں کورونا وائرس کے متعلق اسپتالوں میں کورونا وائرس کی طبی آلات کا جائزہ لیا گیا، بلوچستان کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے اجلاس کو مجموعی صورت حال پر بریفنگ دی گئی۔ صوبے میں مقامی افراد کی تعداد 94فیصد ہے،454 افراد صحتیاب ہوۓ شیخ زید اسپتال میں 20 فاطمہ جناح اسپتال میں 18 جبکہ سیلف آئیسولیشن میں 2163 افراد ہیں، 149ڈاکٹرز اور 47 پیر ا میڈکز کورنا وائرس سے متاثر ہوئے،اجلاس میں غیر ضروری ٹیسٹنگ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ عید کے بعد مزید 4 ٹیسٹنگ مشین اور 60 ہزار کٹس دستیاب ہونگی، فیصلہ ہوا کہ ادویات کی خریداری کا جاری عمل عید کے فوری بعد مکمل ہو جاۓ گا ، کنٹریکٹ پر مائکرو بیالوجسٹ کی بھرتی کا عمل جاری ہے، اس وقت کوئٹہ کے تین اسپتالوں میں 25 وینٹیلٹر اور آئی سی یو بیڈز موجود ہیں مزید 75 خریدے جارہے ہیں جس سے کل تعداد 100 ہو جاۓ گی جبکہ اجلاس میں روڈ ٹرانسپورٹ اور ریل ٹرانسپورٹ کو کھولنے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ ایس او پیز کے بغیر ٹرانسپورٹ کھلنے سے کورونا وائرس کا پھیلاؤ دیہاتوں تک پھیل سکتا ہے اور اجلاس کی توسط سے عوام سے سفر نہ کرنے کی اپیل کی گئی۔ کوئٹہ کے عوام کو تاکید کیا گیا کہ لو گ شہر سے باہر نہ جائیں اور باہر والے کوئٹہ نہ آئیں کیونکہ وائرس کے اثرات کوئٹہ میں زیادہ ہیں۔ عید کے حوالے سے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ عوام عید سادگی سے منائیں جبکہ عید میلوں پر مکمل پابندی ہو گی اور عید گاہوں کی تعداد میں اضافہ کر کے رش کو کم کیا جاۓ گا جبکہ اجلاس میں گندم کی خریداری کے عمل کا بھی جائزہ لیا گیا اور گندم زخیرہ کرنے والوں کے خلاف بھرپور کاروائی کا فیصلہ ہوا اور آخر میں محکمہ اطلاعات کو مقامی زبانوں میں سفر نہ کرنے کی آگاہی مہم شروع کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں