شام اور ایران میں ترک فضائیہ کے کرد جنگجووں پر حملے، 89 اہداف تباہ، 31 افراد ہلاک
استنبول (مانیٹرنگ ڈیسک) ترکی کی وزارت دفاع نے اتوار کو کہا کہ شمالی عراق اور شمالی شام میں کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں کے خلاف فضائی حملوں میں پناہ گاہوں اور گولہ بارود کے ڈپو سمیت 89 اہداف کو تباہ کر دیا گیا۔ ان حملوں میں عراق میں قندیل، اسوس اور ہاکورک اور شمالی شام میں کوبانی، تل رفعت، سیزائر اور ڈیرک کو نشانہ بنایا گیا۔ انسانی حقوق مانیٹرنگ گروپ کے مطابق کرد ٹھکانوں پر ترس فورسز کے حملوں میں 31 افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں کرد ملیشیا کے 18، شامی فوج کے 12 اہلکار شامل ہیں۔ فضائی حملوں میں ایک صحافی بھی ہلاک ہوا۔ مزید کہا گیا کہ حملے کے دوران جاں بحق ہونے والوں میں آزادی پسند گروہ کے ڈائریکٹر بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں ترکیہ کی وزارت دفاع نے آپریشن کے آغاز کے لیے روانہ ہونے والے جنگی جہاز کی تصویر کے ساتھ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ بدلے کا وقت آگیا ہے، بدمعاشوں کے حملوں کا حساب لیا جا رہا ہے۔ وزارت دفاع نے ایک اور پوسٹ میں کہا کہ تخریب کاروں کے ٹھکانے حملوں سے تباہ ہو گئے، جہاں ایک ایک ویڈیو میں دکھایا گیا کہ ایک ہدف کو فضائی حملے سے نشانہ بنایا جا رہا تھا جس کے بعد ایک دھماکا ہوا۔ ترکیہ کی فوج عراق میں کردستان ورکرز پارٹی کے اڈوں کو باقاعدگی سے نشانہ بناتی رہتی ہے اور رواں برس اپریل سے ترکیہ کی فوج نے عسکریت پسندوں کے تعاقب میں شمالی عراق میں کلاک لاک آپریشن کیا تھا۔


