بھاگ، فراہمی آب کے منصوبے متعلقہ افسران کیلئے سونے کی چڑیا بن گئے، ٹھیکوں کی بندر بانٹ سے کروڑو روپے خورد برد
تمبو (انتخاب نیوز) کچھی بھاگ واٹر سپلائی اسکیم کے تالاب متعلقہ ایکس ای این کے لیے سونے کی چڑیا بن گئے تالابوں سے کروڑوں روپے کی مٹی غیر قانونی طریقے سے چوری کرنے کا سلسلہ رک نا سکا تفصیلات کے مطابق نصیرآباد میں قائم ضلع کچھی کی واٹر سپلائی اسکیم کچھی پلان بھاگ کے تالابوں کی غیر قانونی کھدائی سے محکمے کو کروڑوں روپوں کا ٹیکہ لگادیا گیا گزشتہ ایک ماہ سے جاری کھدائی کے کام میں لگ بھگ کرڑوں روپوں کی قیمتی مٹی اٹھالی گئی ہے زرائع کے مطابق مٹی کی چوری میں محکمے کو مامو بناکر بغیر کسی ٹینڈر کے تالابوں کی بھاری مشینری سے کھدائی کرائی جارہی ہے جس سے روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں ٹریکٹر ٹرالیاں مٹی کی ڈھلائی میں مصروف ہیں جو مارکیٹ میں فروخت کی جارہی ہے محکمہ کے قوانین کے مطابق کسی بھی تالاب کی کھدائی کا ٹیندر کرنا لازمی ہوتا ہے اور معیاری ٹھیکے داروں کو ٹھیکہ دیکر حاصل ہونے والی رقم سرکاری خزانے میں جمع کی جاتی ہے مگر بدقسمتی سے نصیرآباد میں مٹی کی چوری کا سلسلہ ناصرف حال ہی میں جاری ہے بلکے اس سے قبل بھی نصیرآباد کی شرقی اولڈ واٹر سپلائی اسکیم سے غیرقانونی طور پر مٹی کی فروخت کی جاتی رہی ہے جس پر اسکے خلاف مختلف سیاسی وسماجی افراد نے احتجاج بھی کیا ہے مگر بدقسمتی سے کوئی شنوائی نہیں ہوسکی سرکاری خزانے کو نقصان دینے کے ساتھ ساتھ کچھی پلان بھاگ ناڑی اسکیم کے ایکس ای این تالابوں کی غیر ضروری کھدائی کرکے بھاگ ناڑی کی عوام کو پانی کی نعمت سے محروم کرنے کی کوشش کررہا ہے جس سے تالابوں کی گہرائی بڑھ جائے گی اور بھاگ تک پانی پہنچانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا ضلع کچھی کی عوام نے چیف سیکریٹری بلوچستان، وزیراعلی بلوچستان،نیب،سمیت دیگر تحقیقاتی اداروں سے نوٹس لیکر مٹی چوری میں ملوث آفسیران اور عملے کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکے سرکار کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا نہ پڑے اور عوام صاف پانی سے محروم نہ رہ جائیں۔


