پنجگور انتظامیہ نے پیر تک مطالبات منظور نہ کیے تو دوبارہ احتجاج شروع کریں گے، انجمن تاجران بلوچستان

پنجگور (نامہ نگار) پنجگور انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ، پنجگور کے صدر حاجی خلیل احمد دھانی، مرکزی انجمن تاجران پاکستان کے جنرل سیکرٹری حاجی یاسین مینگل، انجمن تاجران کمیٹی کے صدر محمد اسحاق، روشن دشتی، سرپرست اعلیٰ انجمن تاجران کیچ نثاراحمد، حاجی فدا احمد شیر جوسکی، جائنٹ سیکرٹری انجمن تاجران کیچ نے کہا کہ پنجگور سمیت مکران کے تاجروں خصوصاً عوام کے ذریعہ معاش ایرانی سرحدی بارڈر سے وابستہ ہے، بارڈر کے کاروبار کے بغیر تاجروں کا گزر بسر اور روزگار ناممکن ہے، تاجروں کو بارڈر سے سہولت فراہم کرنا ان کا بنیادی حق ہے، پنجگور کے تاجروں کو کاروبار اور روزگار سے محروم رکھنا ناانصافی ہے، پنجگور کے تاجروں نے پانچ روز تک اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال کرکے تاریخ رقم کی جو خراج تحسین کے قابل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں کے مطالبات پر عملدرآمد انکا حق ہے، اگر پنجگور کے تاجروں کے مطالبات پر عملدرآمد نہیں ہوا تو بلوچستان بھر میں احتجاج پر مجبور ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجگور میں تاجروں کے ہمراہ پرہجوم پریس کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ نے کہا کہ پنجگور اور مکران بھر کے تاجروں کے حقوق اور انکے جائز مطالبات کے حق میں بلوچستان کی تاجر برادری انکے ساتھ ہے، مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے پنجگور کے تاجروں کے مطالبات کے حوالے سے چیف سیکرٹری اور سیکرٹری داخلہ بلوچستان سے گفتگو اور ملاقات کی ہے جس پر بالائی سطع پر ضلعی انتظامیہ کو تاجر برادری کے مسائل فوری حل کرنے کے احکات جاری کیے ہیں۔ انہوں نے پنجگور کے تاجروں کے 11 مطالبات کی منظوری انکی لازوال جدوجہد اور قربانی کا نتیجہ ہے، جنہوں نے پانچ دن تک سی پیک روڈ کو بند کرکے اپنے مطالبات کو منظور کرایا اور اب عملدرآمد کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجگور انتظامیہ نے تاجروں کے مسائل کو 28 نومبر تک حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اگر پیر تک مطالبات پر عملدرآمد نہ ہوا تو اسی جگہ سے دوبارہ احتجاج کا سلسلہ شروع کرینگے۔ پنجگور انتظامیہ اور صوبائی حکومت نے پنجگور کے تاجروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ جیرک بارڈر اور چیدگی بارڈر پر گاڑیوں کی تعداد میں اضافے کے حق میں ہمار مطالبے کو تسلیم کیا گیا ہے جس میں 300 گاڑیوں کے بجائے روزانہ دونوں انٹری پوائنٹ میں 500 گاڑیوں کو کاروبار کی اجازت اور اشیا خورونوش کی لانے کی بھی اجازت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پیر تک مطالبات پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو دوبارہ احتجاج کا اعلان کرینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں