حوثی ملیشیا نے لڑائی میں اپنے 9 رہنماؤں کی ہلاکت کا اعتراف کرلیا
صنعاء :یمن میں حوثی ملیشیا نے اتوار کے روز اپنے 9 رہنماں کی ہلاکت کا اعتراف کرلیا جن میں دو افسران بھی شامل ہیں جو یمینی فورسز کے ساتھ لڑائی میں نام نہاد کرنل کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔حوثی ملیشیا سے وابستہ میڈیا نے بتایا کہ ملیشیا نے یمن کی متعدد گورنریوں میں اپنے مرنے والوں کی آخری رسومات ادا کی ہیں۔ ان مرنیوالوں کی دارالحکومت صنعا کے سیکرٹریٹ میں 9 افراد کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ ان سب کو مختلف فوجی رینک دئیے گئے تھے۔حوثی باغی ملیشیا نے مرنے والوں کے ناموں کی ایک فہرست بھی شائع کی ہے جن کے بارے میں اس نے دعوی کیا ہے کہ وہ اپنے منصوبے کے دفاع کے لیے جنگ میں مارے گئے تھے۔ جن میں 2 رہنما کرنل کے عہدے کے، 2 میجر اور کیپٹن کے عہدے پر تھے اور 5 لیفٹننٹ تھے۔مرنے والوں میں ولید مشعفل، شایف عمر الوعری کرنل کے عہدہ پر تھے، عبدالرحمن مرشد العدینی اور زین العابدین علی القرعی کو میجر اور کیپٹن کا عہدہ دیا گیا۔حوثی ملیشیا بھی حزب اللہ کی طرح انسانی نقصانات کے متعلق انتہائی رازداری برتتی ہے تاہم مختلف گورنریوں میں مرنیوالوں کی آخری رسومات کی روزانہ کی بنیادوں پر ادائیگی سے ملیشیا کو ہونے والے بڑے فوجی نقصان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔


