اٹھارویں ترمیم کو چھیڑا گیا تو پاکستان ٹوٹ جائیگا ، ایمل ولی
پشاور(انتخاب نیوز)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اور اس ملک کی وفاداری کا حلف باچا خان نے قومی اسمبلی میں اٹھایا تھا۔ ہم نینسل درنسل پاکستان کو تسلیم کیا ہے اب باری ہیکہ پاکستان ہمیں تسلیم کرے۔ ہمارے اکابرین پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے لیکن ہم نے کبھی پاکستان توڑنے کی بات نہیں کی۔ چارسدہ میں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن شبقدر کے زیراہتمام باچا خان امن سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی صدر ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کے اندر اپنے حقوق اور وسائل پر اختیار کی بات کرتے ہیں۔ جب تک وسائل پر اختیار نہیں ملے گا پختون قوم محرومیوں کا شکار رہے گی۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم چھوٹے صوبوں کے حقوق کی ضامن ہے۔ پارلیمان سے باہر رکھا جاتا ہے کوئی پروا نہیں،حق تلفی کی گئی تو خاموش نہیں رہیں گے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کو رول بیک کرنے کی سازش کی گئی تو پاکستان ٹوٹ جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں فساد کو جہاد کا مقدس نام دیکر پختونوں کو دھوکہ دیا گیا۔ پختون سرزمین پر دہشتگردی اور بدامنی کی بنیاد آمر ضیا الحق نے رکھی ہے۔ سوات میں دہشتگردی کے دوران خواتین نے اپنے زیور تک دہشتگردوں کے حوالے کئے۔ پختون قوم بیدار ہے اور جان چکی ہے کہ پختون سرزمین پر کفر اور اسلام کی کوئی جنگ نہیں۔ ولی خان نے افغان جنگ کو فساد قرار دیا تو بدلے میں ان پر کفر اور ملک دشمنی کے فتوے لگے۔ پختونوں کی بدقسمتی ہے کہ جو بھی انکے حقوق اور امن کی بات کرتا ہے ان کے خلاف سازشیں ہوتی ہیں۔ ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے اور امن کے حوالے سے اپنے موقف پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اے این پی دور حکومت میں دہشتگردی کو اے این پی کے خلاف پراپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اے این پی اگر چاہتی تو قوم کے امن کا سودا کرکے آرام سے حکومت کرسکتی تھی۔امن کی خاطر ہم نے پہلے مذاکرات کا راستہ اپنایا لیکن دہشتگرد تباہی سے باز نہیں آئے۔ ہم باچا خان کے پیروکار اور ولی خان کے جانشین ہیں، امن کیلئے ہر حد تک جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ باچا خان نے بندوق کی بجائیپختونوں کو عدم تشدد کا اسلحہ دیا۔ بندوقوں کی جنگ میں ہمیشہ ہار اورعدم تشدد کی جنگ میں جیت مقدر ہوتی ہے۔ باچا خان نے عدم تشدد اور امن کی خاطر دوسری جنگ عظیم کے دوران کانگرس کی مخالفت کی۔ پختونخوا میں دہشتگردوں کی دوبارہ منظم ہونے بارے انکا کہنا تھا کہ عمران نیازی اور فیض کے گٹھ جوڑ سے پختونخوا کو دوبارہ دہشتگردوں کے حوالے کیا گیا۔ کور کمانڈر جرگیکررہا تھا اور آرمی چیف کہہ رہا تھا کہ اس کو مذاکرات کی کوئی خبر نہیں۔ تعجب ہے کہ ایک ملک کے ساتھ جرگے میں نمائندگی صوبے کا ایک وزیر کررہا تھا۔ وہی صوبائی حکومتی ترجمان کھلیعام اعتراف کررہا ہے کہ اس نے افغانستان کے فساد میں حصہ لیا ہے۔ جس ملک میں ایک وزیر ایسا اعتراف جرم کررہا ہو اور کوئی کارروائی نہ ہو، وہاں کیسے امن ہوگا؟۔افغانستان ایک کمزور ملک ہے اس لئے حکومتی ترجمان ایسی باتیں کررہا ہے، کسی اور ملک کے بارے میں ایسا کہہ دے تو لگ پتہ جائے گا۔ طالبان کی طرف سے دوبارہ حملوں کے آغاز کے بیان بارے ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد وضاحت کریں کہ انہوں نیکس بنیاد پر اور کن کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے؟۔ جنگ اگر قوم کے جوانوں، بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کے خلاف ہے تو پختون قوم اس کے لئے تیار نہیں۔ ریاست اگر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی تو ہمیں حق حاصل ہے کہ اپنے دفاع کیلئے قدم اٹھائیں۔ حکومتی منصب پر ایک دہشتگرد کا بیٹھنا ضرب عضب اور ردالفساد پر سوالیہ نشان ہے۔نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کئے بغیر دہشتگردی کی بیخ کنی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے آرمی چیف سے توقع ہے کہ وہ قوم کے امن اورسلامتی کا سودا نہیں کریں گے۔ عوام توقع رکھتے ہیں کہ ریاست دہشتگردوں کو گریبان سے پکڑ کر انکی حفاظت کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ کی رخصتی، عمرانی فتنے کے خاتمے کا آغاز ہے۔ استعفے دینے کا اعلان محض ایک ڈرامے کے سوا کچھ نہیں۔ استعفوں کی دھمکی، وقت سے قبل انتخابات کیلئے ایک ڈیل کی خواہش کا اظہار ہے۔ عمران نیازی کسی خوش فہمی میں نہ رہے،قبل از وقت انتخابات ایک خواب ہے۔ جو شخص پانچ منٹ کا فاصلہ سرکاری ہیلی کاپٹر کے بغیر نہیں کرسکتا وہ صوبائی اسمبلیاں کیوں تحلیل کرے گا؟۔ عمران خان ابھی سے اپنے لئے جیل کا انتخاب کرلیں، مزید ڈھیل نہیں ملے گی۔


