مغربی اقوام کو اسرائیل کی غیر مشروط مالی اورسیاسی حمایت بند کردینی چاہیے،ترجمان قطری وزارت خارجہ

قاہرہ(انتخاب نیوز)قطر کی وزرات خارجہ کی پہلی خاتون ترجمان اور اسسٹنٹ وزیر خارجہ لولواہ راشد محمد الخاطر نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ مغربی اقوام کو اسرائیل کی غیر مشروط مالی، اخلاقی اورسیاسی حمایت بند کردینی چاہیے۔ حماس کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ مسئلہ تخفیف پسندانہ سوچ کاہے جس کے تحت فلسطینی لوگوں کی 1948سے جاری جدوجہد کو کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ صرف حماس کو مسئلہ قراردیا جانا درست نہیںکیونکہ حماس کا قیام تو 1984میںمیں عمل میں آیاتھا۔ ان خیالات کااظہار لولواہ راشد محمد الخاطر نے امریکی ٹیلی وژن سکائی نیوز سے انٹرویو میں کیا۔ لولواہ راشد محمد الخاطر کا کہنا تھا کہ حماس سے قیام سے دہائیوں پہلے بھی فلسطینی عوام مظالم کا شکار تھے۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمشنر نے کہا ہے کہ جارحیت اسرائیل کی جانب سے کی گئی ہے جو کہ جنگی جرائم کی صورتحال اختیار کرسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کی کمشنر نے یہ نہیں کہا یہ حملے غزہ کی جانب سے بھی کئے گئے ہیں۔ ہم دوطرفہ بات نہیں کررہے بلکہ ہم تو ایک جوہری ریاست کے بارے میں بات کررہے ہیں جس کے پاس دنیا کی افواج میں سے ایک بہتری فوج ہے اوردوسری جانب بغیر ریاست کے لوگ ہیں جو دہائیوں سے مظالم کا شکار ہیں۔ لولواہ راشد محمد الخاطر نے اپنے انٹرویوکے دوران ان فلسطینی بچوں کی تصاویر بھی دکھائیں جو اسرائیلی جارحیت کے نتیجہ میں شہید ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ بچے حماس نہیں ہیں اور یہ فلسیطنی ہیں۔ لولواہ راشد محمد الخاطر نے امریکی سماجی کارکن راچل کورے کی تصویر بھی دکھائی جن کو اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے 2003میں ہلاک کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوجی ، صحافیوں، سماجی کارکنوں کو قتل کررہے ہیں تاکہ وہ سچ بیان نہ کرسکیں۔ ان کا کہا یہ دوطرفہ جارحیت نہیں بلکہ یہ بنیادی طور پر قبضہ ہے اور اسرائیل آخری نوآبادیاتی طاقت ہے جو کو ہم اپنے وقت اور دور میں جانتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں