خضدار میں گیس کی وسیع ذخائر دریافت،اختر مینگل سے مشاورت،مقامی فورس بنانے کی تجویز،سینیٹ قائمہ کمیٹی
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کو بریفنگ دیتے ہوئے وزارت کے حکام نے بتایا کہ مختلف گیس کمپنیوں نے حکومت کو 795ارب روپے دینے تھے جن میں سے جن میں سے ساڑھے تین ارب روپے کی وصولی کر لی گئی ہے۔کھاد فیکٹریوں کے واجبات کے معاملے پر چیئرمین کمیٹی اور سینیٹر فدا محمد کے درمیان تلخی،چیئرمین کمیٹی نے کہا ہم ان کے خلاف قرارداد تو منظور کر سکتے ہیں مگر پابند نہیں کر سکتے۔ کمیٹ اجلاس میں وزیر پیٹرولیم کی مسلسل عدم شرکت پر کمیٹی کا اظہار برہمی۔چیئرمین کمیٹی نے کہا اگر اگلے اجلاس میں وفاقی وزیر نے شرکت نہ کی تو انکے خلاف چیئرمین سینیٹ کو لکھیں گے۔ پیر کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس چیئرمین کمیٹی کہدہ بابر کی سربراہی میں اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس شروع ہوتے ہی رکن کمیٹی اور پی ٹی آئی کے رہنماسینیٹر فدا محمد نے کہا کہ اجلاس میں طے ہوا تھا کہ اگر وفاقی وزیر نے شرکت نا کی تو اجلاس نہیں ہوگا جس کے جواب میں چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ اگر وزیر یا سیکرٹری نا آئے تواجلاس منعقد نہیں ہوگا مگر وفاقی سیکرٹری تشریف لے آئے ہیں۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے وزارت کے حکام نے بتایا مختلف گیس کمپنیوں نے حکومت کے سات سو ارب روپے دینے ہیں جس میں سے ساڑھے تین سو ارب وصول کر لیے گئے ہیں جبکہ 448ارب روپے ابھی لینے ہیں۔رکن کمیٹی محن عزیز نے اعدادو شمار کو غلط قرار دے دیا۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ خضدار میں گیس کے وسیع زخائرملے ہیں مگر وہاں پر سکیورٹی اور امن اومان کا مسئلہ ہے اس معاملے پر مقامی رہنما اختر مینگل سے مشاورت کی گئی، انہوں نے کہا کہ وہاں پر مقامی لوگوں کو بھرتی کر کیایک فورس بنائی جائے جس میں سکیورٹی اداروں کا کوئی عمل دخل نا ہو،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پاکستان کھربوں روپے کی کیس درآمد کرتا ہے جبکہ مقامی گیس کو زیر استعمال لا کر ہم قومی خزانے کی بچت کر سکتے ہیں،اس معاملے کو اجلاس کے باہر مل کر طے کرتے ہیں۔ اجلاس میں گیس کمپنیوں اور کھاد بنانے والی فیکٹریوں کے واجبات کے بارے میں چیئرمین کمیٹی اور سینیٹر فدا محمد کے درمیان گرما گرمی پیدا ہو گئی۔ رکن کمیٹی سینیٹر فدا محمد کا کہنا تھا کہ کھاد کمپنیوں کو پابند بنایا جائے وہ گیس سستے داموں لے کر کھاد مہنگے داموں فروخت کر رہی ہیں، جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہم انہیں پابند نہیں بنا سکتے لیکن ان کے خلاف قرارداد لا سکتے ہیں۔اجلاس میں حکام نے بتایا کہ مظفر گڑھ میں محمود کوٹ کے مقام پر آئل ریفائنری کے استعداد میں اضافہ کیا گیا ہے، پائپ لائن کی حفاظت کے لئے سندھ اور پنجاب حکومت سے تعاون حاصل کیا گیا ہے،اسکے علاوہ تیل چوری روکنے کے لئے فوج سے بھی بات چیت کی گئی ہے۔ محرک سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے بریفنگ پر عدم اعتماد کرتے ہوئے اگلے اجلاس میں تفصیلی رپوٹ طلب کر لی۔


