ریکوڈک معاہدے کیلئے وزارت اعلیٰ کی کرسی بھی داؤ پر لگائی،میر عبدالقدوس بزنجو
کوئٹہ (انتخاب نیوز)وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے پیر کی شب میڈیا سے خصوصی بات چیت میں ریکوڈک منصوبے کو فوکس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے دن رات کی محنت حتی کہ وزیراعلیٰ کی کرسی کوبھی داؤ پر لگا کر ریکو ڈک منصوبے کو بلوچستان کے حق میں بنایا ہیریکو ڈک منصوبے کو سیاست کی نذر نہیں ہونے دینگے اس منصوبے سے اربوں ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری پاکستان آ رہی ہے اور اسکا سب سے بڑا فائدہ بلوچستان کی معیشت اور عام بلوچستانی کو پہنچے گا وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس وقت ملک جن معاشی مشکالات کا شکار ہے ان سے بیرونی سرمایہ کاری کے زریعہ ہی نکلا جا سکتا ہے بیرونی قرضوں سے زرمبادلہ کے زخائر بڑھانا عارضی انتظام ہے انہوں نے کہا کہ ریکوڈک منصوبے میں ہونے والی غیر ملکی سرمایہ کاری کے آٹھ ارب ڈالر ملک کی معیشت میں تازہ خون کی طرح دوڑینگے وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ بات روز روشن کی طرح سب پر عیاں ہے کہ ملک اور صوبے کے مفاد میں اس سے بہتر معاہدہ نہیں ہو سکتا تھاہم نے اللہ کے فضل سے ناممکن کو ممکن بنا کر دکھایا ہے سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کیلئے ہمارا اٹل موقف حیران کن تھا آغاز میں ہمیں کسی بھی فورم پر سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا تھا تاہم نے شروع دن سے عہد کیا تھا کہ صوبے کے مفاد سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اوع ہم نے کر دکھایا وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم نے ہر ہر قدم پر صوبائی اسمبلی،سیاسی قائدین اور کابینہ کو آن بورڈ رکھا اسمبلی قرار داد پر بھی اپوزیشن کو مطمئن کریں گے سب کو ساتھ لیکر چلنے پر پہلے بھی یقین رکھتے تھے اور اب یقین ہے گزشتہ روز بھی اپوزیشن کے رہنماؤں کو قرارداد کے حوالے سے بریفنگ دی وزیراعلیٰ نے کہا کہ معاہدے کے اس مرحلے پر اختلاف رائے کسی طور صوبے کے مفاد میں نہیں وزیراعلیٰ نے واضع طور پر کہا کہ ہم نے نہ تو اپنا کوئی اختیار وفاقی حکومت کو دیا اور نہ کسی صوبائی ٹیکس کی معافی دی وفاقی حکومت نے ریکو ڈک منصوبے پر اپنے ٹیکسوں کی چھوٹ دی لیکن تمام صوبائی ٹیکس نافذالعمل رہیں گے وزیراعلیٰ نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینٹ سے بھی ریکو ڈک پر آج قرار داد منظور ہوئی ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے کو حاصل اختیار سے پیچھے ہٹناگناہ سمجھتے ہیں اور اس کا سوچ بھی نہیں سکتے سپریم کورٹ کے فیصلے میں بھی ریکوڈک معاہدے میں ہمارے اقدامات کو پزیرائی ملی ہے اور ہمارا ضمیر بھی مطمئین ہے کہ ہم نے نہ تو اپنے موقف سے انحراف کیا نہ کسی مصلحت کا شکار ہوا اور نہ ہی کوئی سمجھوتہ کیا۔


