بلوچستان کو کس حیثیت سے ڈیل کیا جارہا ہے، معدنی وسائل پر صوبے کو آج تک کچھ نہیں ملا، اسد بلوچ
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان اسمبلی اجلاس میں صوبائی وزیر زراعت میر اسد بلوچ نے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں مون سون بارشوں کے دوران تباہی ہوئی، بارشوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالہ کیلئے وفاق نے 26ارب روپے دینے کا اعلان کیا تھا اسی طرح بیرونی ممالک نے امداد کی لیکن افسوس وفاق نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا، بیرونی امداد کی مد میں سیلاب زدگان کیلئے 200ملین ڈالر پاکستان کو ملے ہیں، ان دو سو ڈالروں سے بلوچستان کو ایک روپیہ بھی نہیں ملا،صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ بتایا جائے کہ بلوچستان کو کس حیثیت سے ڈیل کیا جا رہا ہے، سیندک، ریکوڈک اور گیس کی مد میں بھی بلوچستان کو کچھ نہیں ملا، 1947ء میں بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں تھا، محمد علی جناح کے الفاظ تھے کہ بلوچستان کی پاکستان میں شمولیت سے بہتری آئے گی۔ صوبائی وزیر زراعت میر اسد بلوچ نے کہا کہ وزیراعظم نے بلوچستان آکر سیلاب زدگان سے جھوٹ بولا جس پر مجھے افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اگر پاکستان کا مستقبل ہے تو بدسلوکی بند کی جائے۔


