دو دن میں تنخواہ نہ ملی تو امتحانات کا بائیکاٹ کریں گے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان
کوئٹہ (انتخاب نیوز) کوئٹہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان و اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر شاہ علی بگٹی، آفیسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نذیر احمد لہڑی سمیت پروفیسر فریدخان اچکزئی، سید ارسلان شاہ، نعمت اللہ کاکڑ، پروفیسر ساجد نبی، راحیل بھنگر اور دیگر نے اپنے سخت تنقید ی بیان میں کہا کہ جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کرام اور افسران کو ماہ نومبر کی تنخواہ تاحال نہیں ملی جبکہ جامعہ کے وائس چانسلر اور دیگر انتظامی سربراہان خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ جامعہ بلوچستان پچھلے تین سال سے مسلسل مالی و انتظامی بحران میں مبتلا ہے لیکن جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر، صوبائی و مرکزی حکومت سے فنڈز لانے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں، ایسی گمبھیر صورتحال میں وائس چانسلر اور دیگر کو اپنی سیٹوں پر بیٹھنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں، انہیں اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے اخلاقاً استعفی دینا چاہیے۔ بیان میں کہا گیا کہ مرکزی حکومت کے سالانہ دس ہزار ارب روپے کے بجٹ میں بلوچستان کے 13 سرکاری جامعات کے اساتذہ، آفیسرز اور ملازمین کی تنخواہوں کیلئے صرف3 ارب روپے جبکہ صوبائی حکومت نے صرف ڈھائی ارب روپے مختص کیے ہیں، جو انتہائی ناکافی ہیں، نتیجتا جامعہ بلوچستان سخت مالی بحران کا شکار ہے، اب جامعہ کے اساتذہ کرام اور ملازمین کو ماہانہ تنخواہ اور پنشنرز کو پنشنز بھی وقت پر ادا نہیں کیا جارہا جبکہ دوسری طرف مرکزی و صوبائی حکومت کے سرکاری ملازمین خاص کر سول وگورنر سیکرٹریٹ اور ایچ ای سی اسلام آباد کے ملازمین کو ہاؤس ریکوزیشن، ڈسپیریٹی، یوٹیلیٹی، ایگزیکٹو و اسپیشل الاؤنس سمیت دیگر مراعات کے ساتھ ماہانہ تنخواہ وقت پر ادا کی جارہی ہیں لیکن جامعہ بلوچستان جیسے اہم تعلیمی ادارے کے اساتذہ اور ملازمین کو بنیادی تنخواہ اور پنشنرز کو پنشنز سے محروم رکھا گیا، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ اگر دو دنوں میں مکمل تنخواہ کی ادائیگی نہیں کی گئی تو طلبا کے سالانہ امتحانات کا بائیکاٹ کرنے پر مجبور ہونگے۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ مرکزی و صوبائی حکومت جامعہ بلوچستان کو بچانے کے لئے فوری طور پر اربوں روپے پر مشتمل بیل آؤٹ پیکیج کا اعلان کرنا چاہیے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے جامعہ بلوچستان و دیگر جامعات کو درپیش سخت مالی و انتظامی بحران کا مستقل حل خاص کر جامعات کے 2022 ء کے ایکٹ کے پالیسی ساز اداروں میں اساتذہ کرام، افسران، ملازمین اور طلبا وطالبات کی منتخب نمائندگی کیلئے 26 دسمبر 2022 ء کو صوبائی حکومت کے وزراء، ممبران صوبائی و قومی اسمبلی و سینیٹ، سیاسی جماعتوں، وکلا برادری، طلبا تنظیموں اور سول سوسائٹی خاصکر اکیڈمیا کا ایک گرینڈ ڈائیلاگ جامعہ بلوچستان میں ہوگا جس میں جامعہ بلوچستان سمیت دیگر جامعات کو درپیش مالی اور انتظامی بحران کے مستقل حل کے لئے تجاویز مرتب کی جائیں گی۔


