ریکوڈ ک بل کی منظوری 1973ء کے آئین کا قتل ہے، مذکورہ قانون سازی کسی صورت قبول نہیں، ڈاکٹر مالک
کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ سینیٹ اور بلوچستان اسمبلی ریکوڈ ک بل کی منظوری 1973ء کے آئین کی خلاف ورزی نہیں بلکہ اس کے قتل کے مترادف ہے، نیشنل پارٹی ریکوڈک بل کو یکسر طور پر مسترد کرتی ہے۔ اس بل کے خلاف ہر جمہوری فورم پر آواز بلند کی جائیگی،یہ بات انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہی۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ نیشنل عوامی پارٹی کی طویل جدوجہد کے بعد ہمیں 1973کا آئین مل اس آئین کے تحت معدنیات کا اختیار صوبوں کا تھا آج وفاق نے 1973کے آئین اس اختیار بھی ضبط کرلیا ہے جس سے بلوچستان کی شدید حق تلفی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم سے قبل بھی یہ اختیار صوبوں کا تھا وفاق کا یہ اقدام 1973کے آئین کے قتل کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ ریکوڈک سے متعلق بلوچستان اسمبلی اور سینیٹ میں کی گئی قانون سازی کو یکسر طور پر مسترد کرتے ہیں بلوچستان کے ساتھ یہ ناانصافی کسی بھی صورت قبول نہیں کی جائیگی نیشنل پارٹی ہرجمہوری فورم پر اس عمل کی مذاہمت کریگی۔انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی جلد اپنے آئند کے لائحہ عمل کا اعلان بھی کریگی۔


