نئی نسل پوچھے گی نکلے تھے روڈ نالی لینے اور بدلے میں قومی ساحل وسائل گنوا بیٹھے،اسرار زہری
خضدار (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے سربراہ سابق وفاقی وزیر میر اسرار اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ بلوچستان کی معدنیات کے حوالے سے قانون سازی کرتے ہوئے بدنیتی کا مظاہرہ کیا گیا اور یہ آج کی بات نہیں بلکہ روز اول سے بلوچستان کے ساتھ اسی طرح کا معاندانہ رویہ رکھا جارہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے میر اسرار زہری نے کہا کہ 1973ء کے آئین میں درج نکات کے تحت صوبوں کو حق ملکیت کے حوالے سے تحفظ حاصل ہے۔ آئین پاکستان کا احترام کرتے ہوئے صوبہ بلوچستان کے وسائل کا احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کا دفاع ہر سیاسی جماعت پر لازم ہے، خاص کر بلوچستان کی قوم دوست اور وطن دوست جماعتوں کے لئے یہ ایک کڑا امتحان ہے، ساحل وسائل کو تحفظ دینے کے حوالے سے ان پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اس معاملے پر سیاسی اتحاد پی ڈی ایم جو کہ حکومت کا حصہ ہے کے لئے یہ ایک سوالیہ نشان ہے کہ آخر بلوچستان کو دیوار سے لگانے کی اتنی کوشش کیوں کی جارہی ہے، اس متعلق سیاسی قیادت کو اپنی پوزیشن واضح کرنا ہوگی، زبانی جمع خرچ و لفاظی بہت ہوچکی اب اس عمل سے انہیں باہر آنا ہوگا۔ تاریخ بہت بے رحم ہے، نئی نسل یہ پوچھتے ہوئے حق بجانب ضرور ہوگی کہ نکلے تھے روڈ نالی لینے اور بدلے میں قومی ساحل وسائل ہاتھوں سے نکل چکا، بلوچستان کے عوام اس طرح کے ماورائے آئین قانونی ترامیم کو اپنے نمائندوں کی بدنیتی یا زاتی مفادات سے تعبیر کرتی ہے۔ اور ان اقدامات کو کسی بھی طرح تسلیم نہیں کریگی۔


