اختر مینگل حکومت چھوڑ کر جا سکتے ہیں، ہو سکتا ہے آئندہ چند دنوں میں دوسرے اتحادی بھی ساتھ چھوڑ جائیں، شیخ رشید
لاہور(انتخاب نیوز)عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ اختر مینگل حکومت چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب کوئی شک نہیں رہا کہ عمران خان جو فیصلہ کرتے ہیں اس پر قائم بھی رہتے ہیں۔عمران خان نے کہہ دیا اسمبلیاں تحلیل ہوں گی تو اب پر قائم رہا جائے گا۔قومی اسمبلی سے استعفوں کے وقت بھی کچھ لوگوں نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔قومی اسمبلی سے استعفوں کے وقت بھی عمران خان کے فیصلے کو ترجیح دی گئی۔شیخ رشید نے مزید کہا کہ آئندہ پندرہ دن بہت اہم ہیں،میرا ذاتی خیال ہے کہ اختر مینگل حکومت چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔موجوہ حکومت کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ نگراں حکومت کا دورانیہ بڑھایا جائے۔دوست ممالک بھی مدد نہیں کر رہے۔ہو سکتا ہے آئندہ چند دنوں میں دوسرے اتحادی بھی ساتھ چھوڑ جائیں۔شیخ رشید نے کہا ہم بھی کہتے تھے پانچ سال پورے کریں گے لیکن ہمیں بھی جانا پڑا۔اگر یہ بھی کہتے ہیں مدت پوری کریں گے تو ہو سکتا ہےایسا نہ ہو۔کوشش کی جا رہی ہے عمران خان کو الیکشن سے کسی طرح نکالا جائے، عمران خان کے بغیر ملک میں شفاف الیکشن نہیں ہو سکتے۔شیخ رشہد نے مزید کہا کہ عمران خان اب اسمبلیاں تحلیل نہیں کرے گا تو ان کا سیاسی نقصان ہوگا۔عمران خان کے پاس بھی اسمبلیاں توڑنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔سیاسی طور پر 15 سے 30 دسمبر کا وقت اہم ہے۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی زیر صدارت سینئر قیادت کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔ پی ٹی آئی نے اسمبلیاں تحلیل ہوتے ہی دوبارہ سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کیا ہے۔عمران خان نے کہا کہ بڑا ایشو مہنگائی ہے،اس پر پہلے سے زیادہ آواز بلند کرنی ہے۔اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ این آر او ٹو کو احتجاجی اور اور انتخابی مہم میں ہدف تنقید بنایا جائے گا۔ پی ڈی ایم کے خلاف بند ہونے والے کیسز کو عوامی مہم میں اجاگر کیا جائے گا۔


