ریکوڈک معاہدے پر کئی تحفظات ہیں، بلوچستان اسمبلی کا فیصلہ عجلت پر مبنی ہے، مولانا واسع

کوئٹہ (انتخاب نیوز) وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے امیر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ریکوڈک منصوبے کے بارے میں قرار داداور بل کے ذریعے بلوچستان سے اختیارات وفاقی حکومت کو منتقل کئے ہیں جس کو ہم غلط اقدام قرار دیتے ہیں اور اس کے حوالے سے جمعیت علماء اسلام اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے منتخب عوامی نمائندوں اور سیاسی جماعتوں نے بھی اپنا ٹھوس اور واضح مؤقف اختیار کیا ہے، اس غلط اور غیر قانونی اقدام کیخلاف ہم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے بھی بائیکاٹ کیا ہے کیونکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق سے زیادہ تر اختیارات قانونی طور پر صوبوں کو منتقل ہوچکے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا مولانا عبدالواسع نے کہا کہ صوبے اپنے وسائل کے مالک اور خود مختار ہے وہ اپنی مرضی و منشاء کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے مفاد اور علاقوں کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے کسی بھی ملک یا ادارے سے معاہدے کرسکتے ہیں، صوبوں کو دیے جانے والے اختیارات رفتہ رفتہ سلب کرکے کم کیا جارہا ہے اور یہ بل بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی ہم نے اپنا احتجاج کابینہ سمیت پارلیمنٹ اور ہر فورم پر ریکارڈ کرواچکے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان کی جانب سے حکومتی لوگوں نے ہم سے رابطہ کیا ہے اور ریکوڈک کی حد تک کئے جانے والے فیصلوں پر ہمیں تحفظات ہیں جس طرح بلوچستان اسمبلی سے اس مسئلے کے حوالے سے عجلت میں قرار داد پاس کرواکر صوبے کے اختیارات وفاق کو منتقل کئے ہیں اس پر ہمیں تحفظات اور خدشات ہیں صوبے کے اختیار دوبارہ وفاق کس طرح واپس لے رہا ہے حالانکہ صوبوں کو با اختیار بنانے کے لئے مزید اختیارات اور وسائل فراہم کرنے چاہئیں ہم بھی حکومت میں ہیں لیکن اپنے ٹھوس اور واضح قانونی جمہوری موقف پر قائم ہے کیونکہ یہ بلوچستان اور عوام کے مفاد کا معاملہ ہے اور ہم اپنے صوبے اور لوگوں کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے حکومت سے مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے ہمیں قوی امید ہے کہ یہ معاملہ آنے والے 3 سے 4 دنوں میں حل ہوجائے گا اور ہم بھی چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے وسائل پر صوبے کا اختیار اور حق ہو۔ جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ بلوچستان کے حقوق کے حصول اور وسائل پر صوبے کی دسترس کے حوالے سے پارلیمنٹ سمیت ہر فورم پر اپنا موقف پیش کیا ہے اور ہم صوبے کی پسماندگی کو دور کرنے اور عوام میں پائے جانے والے احساس محرومی، بیروزگاری، مہنگائی کے خاتمے کو ممکن بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں