بلوچستان سے نکلنے والی گیس کی مین سپلائی کا کنٹرول کوئٹہ میں ہونا چاہیے تھا، بلوچستان ہائیکورٹ

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ جسٹس شوکت علی رخشانی اور جسٹس کامران ملاخیل پر مشتمل بینچ نے گیس کیس سے متعلق سماعت کی ۔ بلوچستان سے نکلنے والی گیس کی مین سپلائی کا کنٹرول کوئٹہ میں ہونا چاہئے تھا، بینچ کے ریمارکس آرٹیکل 158 کے تحت جہاں سے معدنیات نکلتی ہیں وہاں کا پہلا حق ہوتا ہے، گیس پائپ لائنوں پر جاری مرمتی کام پر 2 شفٹ میں لیبر سے کام لیا جائے، گیس کیس سے متعلق درخواست گزار ایڈوکیٹ نذیر آغا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیس میں فیڈریشن پاکستان وزارت پیٹرولیم سوئی گیس کمپنی سمیت متعلق اداروں کو فریق بنایا ہے، کیس کی سماعت جسٹس کامران ملاخیل اور جسٹس شوکت علی رخشانی پر مشتمل بینچ کر رہا ہے، عدالت نے گیس حکام کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کیا ہے، زرغون غر کے مقام پر ابھی تک گیس پائپ لائن کی تنصیب پر کام مکمل نہیں ہوا، عدالت نے مرمتی کام پر 2 شفٹس میں لیبر لگانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے جنرل منیجرسوئی گیس کمپنی کو طلب کرتے ہوئے سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کردی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں