پشتون قبائل ڈیورنڈ لائن کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے، سانحہ اے پی ایس میں ملوث کرداروں کو آج تک سزا نہیں دی گئی، نصر اللہ زیرے

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی نصر اللہ زیرے نے پوائنٹ آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج 16دسمبر ہے آج کے دن یہ ملک دولخت ہوا ، سانحہ اے پی ایس میں بے گناہ پشتون طلبا کا خون بہایا گیا اور متعدد کو زخمی کیا گیا لیکن آج تک انکے والدین کو قاتلوں کی گرفتاری کی خبر نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ چمن میں دو برسوں کے دوران ڈیورنڈ لائن پر خاردار تار لگا کر پشتون قبائل کو تقسیم کیا گیا، اسے کوئی پشتون کبھی تسلیم نہیں کریگا، جبکہ اس کے مقابلے میں پاک بھارت بارڈر پر کرتار سنگھ راہداری بنائی گئی تاکہ دونوں جانب آباد سکھ گھرانوں کو آنے جانے میں دشواری نہ ہو۔ انہوں نے میر عارف جان محمد حسنی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کئی برسوں سے چیخ رہے ہیں کہ خدارا اس مسئلے کو حل کیا جائے، مشرف دور میں مشاہد حسین اور شجاعت حسین پر مشتمل کمیٹی نے چمن تفتان ماشکیل تربت، بادینی بارڈر پر اسلحہ اور منشیات کے بغیر باقی تمام کاروبار کو بارڈر ٹریڈ قرار دیا تھا لیکن ریاست پشتونوں کیساتھ ناروا سلوک کر رہی ہے، علی وزیر کو دو برسوں سے بلا جواز غیر قانونی طور پر پابند سلاسل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علی وزیر کو فوری طور پر رہا کیا جائے، نصر اللہ زیرے نے پینل چیئرمین کی توجہ گزشتہ ہفتے دورہ زیارت کے موقع پر ایف سی اہلکار جونیپر کے جنگالات کے درخت کاٹ کر لے جاتے ہوئے دیکھا گیا جو ماحولیات کیلئے نقصان دہ ہے، اس کا نوٹس لیا جائے، جس اسپیکر نے نصر اللہ زیرے کا مائیک بند کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں