سات روزہ وال پینٹنگز مقابلہ، مکران کے آرٹسٹوں نے تربت شہر کی دیواروں کو زبان بخش دی

تربت (رپورٹ : شاہ میر مسعود)7 روزہ وال پینٹنگ نے تربت کے مختلف مقامات کی خاموش دیواروں کو جگا کر زبان بخش دی، مکران ڈویژن کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے مصوروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا جن میں ضلع گوادر، پنجگور، کیچ شامل تھے۔ جنہوں نے اپنے فن سے شہر کو چار چاند لگا دیے، دیکھنے والے ہر جگہ انکی کارکردگی کو سراہتے ہیں۔ تاریخ کے اعتبار سے مصوری نہایت ہی اعلیٰ مقام رکھتی ہے۔ یہ نہ صرف ثقافتی، سماجی اور مذہبی حالات کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اس سے معاشی اتار چڑھاﺅکے اثرات کا بھی بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اقوام کی تہذیب و تمدن پرکھنے میں بھی مصوری اہم کردار ادا کرتی ہے۔ میری نظر میں ہر مصور اپنے حالات اور سوچ کی بساط اپنے فن کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یاد رہے یہ 7 روزہ وال پینٹنگ ڈپٹی کمشنر کیچ کے تعاون کے بغیر نا ممکن تھا۔ڈپٹی کمشنر کیچ کی مقامی کلچر کو فروغ دینا مصوروں کی پینٹنگ سے یہاں کہ اجتماعی سوچ سے واقف ہونا تھا۔ ڈپٹی کمشنر کیچ کے اس مثبت عمل کو ہم دل سے سراہتے ہیں کہ انہوں نے مکران ڈویژن کے مصوروں کو یہ 7 روزہ وال پینٹنگ مہیا کیں۔ وال پینٹنگ میں 10 سے زائد ٹیموں نے حصہ لیا جن میں مصوروں نے بلوچی ثقافت، بلوچی تاریخ، بلوچی شادی بیاہ کی رسم، بلوچی کے مایہ ناز مصنف و ادبیوں کی تصاویر، نظام تعلیم اور مختلف اہم موضوعات پر اپنے فن پارے پیش کئے۔ مکران ڈویژن سے تعلق رکھنے والے مصور حفیظ گوہر جی، شریف قاضی، ماسٹر عبدالرازق، زباد بلوچ، محمد جان بلوچ، محسن شافی، ربیعہ بلوچ، نور فاطمہ اور دیگر نے کام کرکے بہترین ثقافتی پینٹنگز بنائیں۔ بلوچستان حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ مکران ڈویژن کے یونیورسٹی میں آرٹس ڈیپارٹمنٹ شروع کرنے کا فوری اہتمام کریں اور اسکول میں سینئر آرٹ ٹیچرز کی تعیناتی یقینی بنانے کے ساتھ کالجوں میں آرٹس کی پوسٹیں کری ایٹ کریں۔ ضلعی انتظامیہ اور بالخصوص ڈپٹی کمشنر کیچ میجر (ر) بشیر احمد بڑیچ سے اس طرح کے مثبت کاموں کے توقعات ہیں جو مقامی ثقافت کو فروغ دینے میں کوشاں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں