وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کو بلوچستان کے عوام سے کوئی ہمدردی نہیں، طاقتور قوتیں معدنی وسائل لوٹ رہی ہیں، نیشنل پارٹی

پنجگور (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے زیراہتمام ریکوڈک معاہدے کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی ریلی نیشنل پارٹی کے ضلعی سیکرٹریٹ سے نکالی گئی، جسکی قیادت نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میر رحمت صالح بلوچ، مرکزی جوائنٹ سیکرٹری پھلین بلوچ، ضلعی صدر حاجی صالح بلوچ، مرکزی رہنما سابق ایم پی اے حاجی محمد اسلام بلوچ اور تحصیل صدر تاج بلوچ نے کی۔ ریلی بازار کے مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی بسم اللہ چوک پہنچی۔ ریلی کے شرکاءنے ریکوڈک معاہدہ اور حکومتی فیصلوں کیخلاف زبردست نعرے بازی کی۔ احتجاجی مظاہرے سے نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میر رحمت صالح بلوچ، مرکزی جوائنٹ سیکرٹری پھلین بلوچ، مرکزی رہنما سابق ایم پی اے حاجی محمد اسلام، ضلعی صدر حاجی صالح محمد، وحدت بلوچستان کمیٹی کے رکن گہرام شریف، سابق ضلعی صدر حاجی محمد اکبر بلوچ، حاجی محمد ایوب دہواری، بی ایس او پجار کے ضلعی صدر عامر بلوچ، الطاف حسین نے خطاب کیا۔ میر رحمت صالح بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ریکوڈک کا معاہدہ 1973ءکے آئین اور اٹھارویں ترمیم کی کھلی خلاف ورزی اور بلوچستان کے عوام کے ساتھ دھوکا ہے، جس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس غیر آئینی اقدام کو مسترد کرتے ہیں۔ بلوچستان کی دولت کو لوٹنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو بلوچستان کے عوام سے کوئی ہمدردی نہیں بلکہ ان کہ نظریں بلوچستان کے ساحل اور وسائل پر لگی ہوئی ہیں لیکن ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے ساحل اور وسائل کا آخری سانس تک دفاع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارا صوبہ بلوچستان ایک نازک دور سے گزر رہا ہے، طاقت ور قوتیں وفاق سے ملکر ہمارے صوبے کے ریکوڈک سمیت تمام معدنیات کو لوٹنا چاہتی ہیں، اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام قوم پرست جماعتیں ایک پیج پر ہوکر اپنے ساحل اور وسائل کا دفاع کریں۔ انہوں نے کہا کہ راتوں رات بننے والی بی اے پی پارٹی کو اس لئے پروموٹ کیا گیا تاکہ ان کا کندھا استعمال کر کے بلوچستان کے وسائل کو لوٹا جائے اور صوبے کو ایک ایسا وزیر اعلیٰ دیا گیا جوکہ ایک ربڑ اسٹیمپ کے سوا کچھ بھی نہیں، جو کبھی مدہوش اور کبھی بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے، یہ بلوچستان کے ساتھ مذاق نہیں تو اور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریکوڈک جیسے عظیم منصوبے کو کوڑیوں کے دام فروخت کرنے کا حق وفاقی حکومت کو نہیں دے سکتے، ہر قسم کے قدرتی وسائل سے مالا مال صوبے کے عوام اب بھی زندگی کی تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، بلوچستان کو غریب صوبے کا لقب دیکر ان کی دولت کو لوٹا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حساس اور اہم مسئلے پر اگر بلوچستان کی تمام قوم پرست جماعتوں نے یکجہتی کا مظاہرہ نہیں کیا تو یہ قوم اور صوبے کے ساتھ تاریخی ظلم ہوگا۔ انہوں نے کہا نیشنل پارٹی ریکوڈک سمیت تمام قومی معاملات پر ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہے۔ بلوچستان کے تمام سیاسی زعما اپنے صوبے کے ساحل اور وسائل کے دفاع کیلئے میدان میں اتریں، نیشنل پارٹی ہر قدم پر ساتھ دینے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجگور کے عوام کو سلیکٹڈ نمائندوں نے بیروزگاری، بے امنی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ پنجگور میں چور اور ڈاکوﺅں کا راج ہے۔ عام شریف شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا گیا ہے۔ ایک ہی ایران بارڈر ہے جوکہ روزگار کا ذریعہ تھا اس کو بھی موجودہ نمائندوں نے انتظامیہ سے ملکر ٹوکن اور اسٹیکر کی نظر کردیا، سرعام اسٹیکر فروخت کر کے عام غریبوں کے منہ سے نوالہ چھین لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دور حکومت میں ہم نے دن رات ایک کرکے پنجگور کے امن کو بحال کیا اور اس کو روشنیوں کا شہر بناکر اس کی رونقیں بحال کردیں لیکن موجودہ حکومت نے منشیات کی لعنت کو عام کرکے عوام کو چوروں اور ڈاکوﺅں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں