ریکوڈک قرار داد کی منظوری پر قدوس بزنجو نے ہمیں مایوس کیا، بلوچستان کو 50 فیصد سے زیادہ حصہ دیا جائے، آغا حسن بلوچ
کوئٹہ (انتخاب نیوز) وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ہماری جماعت کا ریکوڈک سمیت بلوچستان کے وسائل اور حقوق کے حوالے سے واضح اور اصولی موقف رہا ہے کہ ساحل و وسائل پر صوبے کا اختیار ہونا چاہئے اور ریکوڈک میں بلوچستان کا 50 فیصد سے زائد حصہ ہونا چاہئے یہی موقف ہم نے وزیر اعظم پاکستان اور بلوچستان اسمبلی کے ان کیمرہ اجلاس میں اختیار کیا تھا ہمارے لئے وزارتیں اور اقتدار کوئی معانی نہیں رکھتا ہماری سیاست کا محور بلوچستان کے حقوق اور ساحل و وسائل پر عوام کا حق حاکمیت زیادہ اہم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو کوئٹہ نجی ہوٹل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر پارٹی کے مرکزی لیبر سیکرٹری موسی جان بلوچ سمیت دیگر بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل اور بلوچستان اسمبلی میں ہمارے نمائندوں نے ہر فورم پر ریکوڈک سمیت دیگر حوالوں سے اپنا واضح موقف پیش کیا ہے میں نے بھی مختلف مواقعوں اور اجلاسوں میں وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کو ریکوڈک میں بلوچستان کا شیئر 25 سے 30 فیصد کی بجائے 50 فیصد سے زائد دینا چاہئے کیونکہ اس سے قبل سیندک اور دیگر منصوبوں سے بلوچستان کو صرف 2فیصد حصہ ملتا رہا اسی طرح بلوچستان سے نکلنے والی گیس سے اب تک صوبے کا بڑا حصہ اس سہولت سے محروم ہے بلوچستان اسمبلی سے عجلت کے ذریعے ایک قرار داد پاس کی گئی جس میں ریکوڈک سمیت صوبے کے وسائل کا اختیار وفاق کو دیا گیا اسکے بعد قومی اسمبلی میں بھی ریکوڈک سے متعلق بل پاس کیا جانا تھا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن قومی اسمبلی سابق وزیر اعلی بلوچستان سردار اختر مینگل نے وزیر اعظم اور وفاقی وزراپر واضح کیا کہ بی این پی اس کی حمایت نہیں کرے گی۔اس کا مطلب اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنا ہے جس طرح عمران خان کی حکومت کے دوران بھی ہماری جماعت کا یہی موقف تھا کہ اٹھارویں ترمیم کو رول بیک نہ کیا جائے جس پر وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے اس بات کو سمجھا اور ہمیں اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ ایک ہفتے کے دوران ریکوڈک سے متعلق بل کو واپس لیا جائے گا اٹھارویں ترمیم کے مطابق ترمیم قومی اسمبلی سے پاس کی جائے گی ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی حمایت ہماری جماعت نے اس لئے کی تھی کہ وہ جام کمال سے بہتر ہونگے لیکن ریکوڈک کی قرار داد کی منظوری کے بعد میر عبدالقدوس بزنجو نے ہمیں مایوس کیا بی این پی کے سامنے مراعات اور وزارتوں کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ پرامن سیاسی اور جمہوری عمل پر یقین ہیں اور ہم سیاسی اور جمہوری لوگ ہیں وزیر اعظم کا رویہ جمہوری ہے ان پر اعتماد کیا وہ ماضی کی ناانصافیوں کا ازالہ کریں گے۔


