ہمیشہ وفاق نے بلوچستان کی وسائل پر قبضہ کرنے کیلئے مختلف طریقوں کا استعمال کیا ،نیشنل پارٹی

قلات میں نیشنل پارٹی کے مرکزی کال پر ریکوڈک کے سودے بازی اور غیر قانونی معاہدوں کے خلاف پریس کلب کے سامنے۔احتجاجی مظاہرہ کیا گیا احتجاجی مظاہرے سے نیشنل پارٹی کے ضلعی جنرل سیکرٹری کامریڈ ظہور بلوچ حاجی غلام قادر عمرانی پیر بخش بلوچ کامریڈ رشید بلو چ ، حفیظ صائد براہوئی ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں باپ پارٹی اور اس کے اتحادی ریکو ڈک کے سودے بازی میں برابر کے شریک ہیں نیشنل پارٹی ایوان بالا اور بلوچستان میں بلوچستان کے قومی دولت لوٹنے والوں اور سودے بازی کے خلاف آج بلوچستان بھر میں پریس کلب کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں بلوچستان کے وسائل کو مال غنیمت سمجھ کر بے۔دردی سے لوٹا جارہا ہیں وسائل سے مالامال بلوچستان کے لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار نے پر مجبور ہیں بنیادی سہولیات سے محروم بلوچستان کے لوگ قسم پرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے بلوچستان کے وسائل بے دردی سے لوٹنے کی اجازت کسی کو نہیں دینگے بلکہ بلوچستان کے حقوق کے احتجاج تحریک چلائینگے انہوں نے کہا ریکوڈک جیسے عظیم منصوبے کو کوڈیوں کے دام فروخت کرنے کا حق وفاقی حکومت کو نہیں دے سکتے ہیں ہر قسم کے قدرتی وسائل سے مالا مال صوبے کے عوام اب بھی زنگی کے تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں بلوچستان کو غریب صوبے کا لقب دیکر ان کے دولت کو لوٹا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حساس اور اہم مسئلے پر اگر بلوچستان کے تمام قوم پرست جماعتوں نے یکجہتی کا مظاہرہ نہیں کیا تو یہ قوم اور صوبے کے ساتھ تاریخی ظلم ہوگا*

ریکوڈک معاہدے کیخلاف بلوچستان بھر میں نیشنل پارٹی کے جانب سے احتجاجی مظارہ کیا گیا

*مستونگ۔۔۔۔۔۔ نیشنل پارٹی اور بی ایس او پجار کے مشرکہ مرکزی کال پر۔۔ ریکوڈک معاہدہ کے خلاف این پی مستونگ اور بی ایس او پجار کے زیر اہتمام مستونگ شہر میں احتجاجی ریلی نکالی اور پریس کلب مستونگ کے سامنے مظاہرہ کیا۔۔۔۔۔ اس موقع پر احتجاجی مظاہرین سے نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر حاجی نزیر آحمد سرپرہ بی ایس او پجار کے صوبائی صدر بابل ملک بلوچ، ضلعی جنرل سیکریٹری سجاد دہوار، میر سکندر خان ملازئی، میر آحمد بلوچ ، ظفر بلوچ، بی ایس او کے زونل صدر نصیب بلوچ محمد گل شاہوانی و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے ریکوڈک معاہدہ کو بلوچ قومی وسائل کی لوٹ مارکاتسلسل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ راتوں رات قانون سازی اور لندن میں معاہدہ پر دستخط کرکے اٹھارویں آئینی ترمیم اور بلوچستان کے حقوق پر شب خون مارا گیا۔۔۔انہوں نے کہا کہ وفاق نے ہمیشہ بلوچ کی منشا کے بغیر پالیسی سازی کرکے وسائل کو لوٹا ہے۔۔انھوں نے کہا اس بار اس لوٹ مار کی قانون سازی میں قووس بزنحو کے کٹپتلی حکومت ،سندھ اسمبلی اور قومی اسمبلی اور سینیٹ بھی شامل ہیں۔۔۔انہوں نے کہا کہ سیندک،سوئی گیس سمیت بلوچ سرزمین سے نکلنے والی معدنیات کے بدلے بلوچ قوم کو صرف بھوک اور افلاس دیا گیا ہے ، جبکہ سی پیک کے نام پر گوادرکو چائنہ کے حوالے کیا گیا لیکن وہاں کے لوگ پانی کو ترس رہے ہیں۔۔ اسی طرح 1952سے سوئی سے گیس نکالی جارہی ہے جس سے ملک بھر کے کارخانے چل رہے ہیں جبکہ دوسری جانب وہاں کے لوگ لکڑیوں سے آگ جلاتے ہیں۔ سیندک سے اربوں ڈالر کا سونا نکالا گیا لیکن وہاں رہنے والے لوگوں کو نان شبینہ کا محتاج بنا دیا گیا ہے۔۔۔انہوں نے کہا کہ ریکوڈک معاہدہ نہ صرف ناقابل قبول ہے بلکہ ملک میں جمہوریت کا راگ آلاپنے والوں کیلئے باعث شرمندگی بھی ہے انھوں نے کہا ہے کہ ریکوڈک معائدہ بلوچ قوم کو مذید پسماندہ رکھنے اور قومی ملکیت پر قبضہ گیری کو مذید دوام بخشنے کا ایک نیا منصوبہ بندی ہے۔۔جسے کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا۔۔۔مقررین نے کہا کہ حالانکہ 1973ء کے آئین کے تحت پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے جس کی وفاقی وحدتیں ہیں اوران کے اختیارات بھی آئین میں واضح اورموجود ہیں، نیپ اور بی ایس او کے طویل اور صبر آزما جدوجہد کی بدولت یہ آئینی اختیارات ملے ہیں، 73ء کا آئین وفاق کی علامت ہے مگر موجودہ حکمران پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) باپ پارٹی اور انکے حواریوں مل کر بلوچ اکابرین اورمحکوم اقوام کی 70سال کی جدوجہد کو برباد کرکے رکھ دیا ہے۔۔ 73 کے آئین میں قدرتی وسائل پر صوبوں کا حق تسلیم کیاگیاہے مگر 73ء کے آئین میں ترمیم لاکر صوبوں کے حق کو دفن کردیاگیا۔۔مقررین نے کہا کہ نیشنل پارٹی ریکوڈک معائدے کو کسی صورت بھی قبول نہیں کرینگے
نیشنل پارٹی جعفرآباد کے زیر اہتمام پارٹی کے مرکزی کال پر ریکوڈک معاہدے کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے

ریکوڈک معاہدے کیخلاف بلوچستان بھر میں نیشنل پارٹی کے جانب سے احتجاجی مظارہ کیا گیا

خضدار(این این آئی)بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ریکوڈک معاہدے کیخلاف نیشنل پارٹی کے جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔نیشنل پارٹی ضلع خضدار اور بی ایس او (پجار)کے زیر اہتمام ریکوڈک کے متعلق سینٹ میں پاس کی گئی قرار داد کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی احتجاجی ریلی نیشنل پارٹی کے ضلعی سینئر نائب صدر میر سلمان زرکزئی،مرکزی رہنماء میر عبدالرحیم کرد،بی ایس او کے سابق چیئرمین امین دوست بلوچ، ضلعی جنرل سیکرٹری عبدالوہاب غلامانی اور بی ایس او کے سنٹرل کمیٹی کے رکن شکیل بلوچ کی قیادت میں نیشنل پارٹی کے ضلعی سیکرٹریٹ سے برآمد ہوئی جو مختلف شاہراوں سے گزرتی ہوئی خضدار پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے کی شکل اختیار کی،مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر اٹھارویں ترمیم کی خاتمہ کی کوششوں،ریکوڈک کے متعلق وفاقی حکومت کی قرارداد،اور صوبائی خود مختیاری میں مداخلت کے خلاف نعرے درج تھے مظاہرین نے نیشنل پارٹی ضلع خضدار کے سینئر نائب صدر میر سلمان زرکزئی،نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء میر عبدالرحیم کرد،بی ایس او کے سابق چیئرمین امین دوست بلوچ،ضلعی جنرل سیکرٹر ی عبدالوہاب غلامانی،بی ایس او کے سینٹرل کمیٹی کے رکن شکیل بلوچ،ضلعی ترجمان شوکت سیاپاد،رفیق بزنجو،دھنی بخش غلامانی،عابد حسین شاہوانی،رئیس بشیر احمد مینگل،علی اکبر زہری،ماسٹر فدا بلوچ اور دیگر نے خطاب کیا مقررین نے اپنے خطاب میں وفاقی حکومت کی جانب سے ریکوڈک کے حوالے سے سینٹ میں قرارداد پیش کر کے پاس کرنے کی مذمت کرتے ہوئے وفاق کی اس عمل کو صوبائی خود مختیاری میں مداخلت،اٹھارویں ترمیم کے خاتمہ کی کوشش اور وفاق و صوبے کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی سازش قرار دیتے ہوے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ وفاق نے صوبے کی وسائل پر قبضہ کرنے کے لئے مختلف طریقوں کا استعمال کیا ہے کافی کوششوں کے بعد اٹھارویں ترمیم پاس ہوئی صوبوں کو اختیارات مل گئے کسی حد تک صوبوں کو اپنی خود مختیاری کا احساس ہوا مگر افسوس ریکوڈک کے حوالے سے پیش کی گئی قرار داد نے سب کچھ خاک میں ملادیا ہم سمجھتے ہیں کہ یہ انتہائی حساس مسئلہ ہے ہمارے بچوں کی زیست کا مسئلہ ہے ہمارے مستقبل کا سوا ل ہے اس پر خاموش رہنے کے بجائے بلوچستان کے تمام سیاسی جماعتوں،بلوچ و پشتون قوم پرست پارٹیوں،غرض یہ کہ تمام طبقات کو یکجا ہو جانا ہوگا نیشنل پارٹی اس مسئلے پر تمام سیاسی قوتوں کو مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی دعوت دیتی ہیمقررین نے کہا کہ سوئی سے نکلنے والی گیس سے بلوچستان کے عوام آج تک محروم ہیں،سیندک پراجیکٹ پر بھی صوبے کو نظر انداز کیا گیا ہے،اب ریکوڈک کے حوالے سے بھی پرانی تاریخ دہرائی جا رہی ہے نیشنل پارٹی اور بی ایس او وفاقی کی اس عمل کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گی ریکوڈک سمیت تمام وسائل پر صوبوں کی حق ملکیت تسلیم کی جائے صوبائی خود مختیاری میں مداخلت بند کی جائے اور اٹھارویں ترمیم کے خاتمہ کی کوششوں سے باز رہا جائے نیشنل پارٹی اور بی ایس او اس حوالے سے شدید ردعملدکھائے گی اور اس سنگین غیر آئینی غیر قانونی عمل کی بھر پور مخالفت کرے گی۔قلات قلات میں نیشنل پارٹی کی مرکزی کال پر ریکوڈک پراجیکٹ کے قانون سازی کے خلاف پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا گیا۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے ضلعی جزل سیکرٹر ی کامریڈ ظہور بلوچ،کامریڈ رشید بلوچ،حاجی غلام قادر عمرانی،انجینئر پیر بخش مینگل،حفیظ مینگل،خلیل احمد،بی ایس او پجار کے لیاقت بلوچ اور دیگر مقررین نے کہا کہ ریکوڈک معاہدہ 1973 کے آئین اور اٹھارویں ترمیم کے کھلی خلاف ورزی ہے اور بلوچستان کے عوام کے ساتھ دھوکہ ہے جس کی شدید مزمت کرتے ہوئے اس غیر آئینی اقدام کو مسترد کرتے ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے دولت کو لوٹنے کی کسی کو اجازت نہیں دینگے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور اسٹبلشمنٹ کو بلوچستان کے عوام سے کوئی ہمدردی نہیں بلکہ ان کی نظرے بلوچستان کے ساحل وسائل پر لگے ہوئے ہے انہوں نے کہا کہ ہم واضع کرنا چاہتے ہے کہ بلوچستان کے ساحل وسائل کی دفاع کرینگے اور اس کو لوٹنے کی کسی کو اجازت نہیں کہ ہمارے وسائل پر ڈھاکہ ڈالے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں