ریکوڈک معاہدے کیخلاف احتجاجی مظارہ، بلوچستان کے ایک ایک انچ کا دفاع کرنا ہماری ذمہ داری ہے، بی این پی
کوئٹہ (آن لائن)بلوچستان نیشنل پارٹی کی مرکزی کال پر ریکوڈک بل منظوری کیخلاف بی این پی ضلع کوئٹہ کے زیراہتمام احتجاجی ریلی میٹرو کارپوریشن سبزہ زار سے شروع ہو کر ریگل چوک جناح روڈ پر گشت کے بعد منان چوک کے سامنے احتجاجی جلسے میں تبدیل ہوئی شرکاء کے ہاتھوں میں پلے کارڈ تھے جن پر ریکوڈک بل نا منظور ساحل و سائل پر بلوچ عوام کے حق حاکمیت و حق و اختیار تسلیم کرو18ویں ترمیم رول بیک کرنا نا منظور نا منظور،مکمل صوبائی خود مختاری بحال کروصوبوں کے وسائل پر وفاق کی قبضہ گری نا منظور نامنظور بلوچستان کے میگا پروجیکٹس میں صوبے کے50فیصد سے زیادہ شیئرز تسلیم کرو تسلیم کرو جیسے نعرے درج تھے، احتجاجی جلسے سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل و پارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی، سابق سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی،سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر و ضلعی صدر غلام نبی مری، بی ایس او کے ضلعی جنرل سیکرٹری عاطف رودینی بلوچ نے خطاب کیا، سٹیج سیکرٹری کے فرائض ڈپٹی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر علی احمد قمبرانی اور اسد سفیر شاہوانی نے انجام دیئے، قرار دادیں ضلعی سیکرٹری اطلاعات نسیم جاوید ہزارہ نے پیش کیں، تلاوت کلام پاک کی سعادت لالا غفار مینگل نے حاصل کی،مقررین نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کا یہاں کے ساحل و سائل جملہ قومی حقوق کے حوالے سے ایک واضع اصولی موقف ہے کہ یہاں کے عوام کی مرضی و منشاء تائید و حمایت کے بغیر ایسے میگا پروجیکٹ کو قبول نہیں کیا جائیگا، جہاں یہاں کے لوگوں کو بائی پاس کر کے تمام اختیارات مرکز کے حوالے کئے جائیں، یہ عمل ملکی قوانین آئین،اور 18ویں ترمیم کی واضع خلاف ورزی ہے، گزشتہ کئی سالوں سے بلوچستان کے عوام جن گمبھیر مسائل و مشکلات بحرانی حالات سے سفر کر رہے ہیں، اس کا بنیادی سبب بھی یہی ہے، کہ یہاں کے آمر اور نام نہاد حکمرانوں نے بلوچستان کی سرزمین کے اوپر اور نیچے معدنیات کو یہاں کے عوام کی حق حاکمیت نہیں سمجھا اور نہایت ہی دیدہ دلیری کوڑی کے بھاؤ فروخت کیا، جس کا ایک تاریخی پس منظر محرومیوں سے بھرا ہوا ہے،یہاں کے لوگوں نے اس بد ترین استحصال کو عملی طور پر محسوس کرتے ہوئے جمہوری جد و جہد کا راستہ ترک کر کے مشکل راہوں پر چلنے کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ ماضی کے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے، مقررین نے کہا کہ بلوچستان کے ایک ایک انچ کا دفاع کرنا ہماری قومی وطنی ذمہ داری اور فرائض میں شامل ہے کیونکہ یہ سرزمین ہماری مادر وطن ہے، اپنی شناخت وجود کو مٹانے کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں دینگے، مرکزی حکومت نے اگر ہمارے خدشات اور تحفظات جو کہ ساحل وسائل کے حوالے سے ہے اور جو رات کی تاریکی میں ریکوڈک کے حوالے سے قانون سازی کی گئی انہیں واپس نہیں لیا اور بلوچستان کو اپنے حقیقی وسائل کے حوالے سے وارث نہ سمجھا گیا تو پارٹی اس حوالے سے سخت فیصلہ کریگی، سیندک پروجیکٹ، سوئی گیس، کے وسائل کو لوٹ کر آج بھی یہاں کے وسائل کو مال غنیمت سمجھ کر یہاں کے لوگ زندگی کی تمام تر بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، یہ کیسی ترقی ہے کہ یہاں کے حقیقی فرزند دو وقت کی روٹی نان شبینہ کے محتاج ہوں اور یہاں کے وسائل پر خفیہ معاہدے اور رات کے اندھیروں میں قرار دادیں منظور کروا کر لوٹ کھسوٹ کی راہ ہموار کی جاتی ہے، یہ ناروا عمل بی این پی کو کسی بھی صورت میں نا قابل قبول ہے، کیونکہ یہاں کے ساحل وسائل کے دفاع کی خاطر ایک تاریخی جد و جہد کا پس منظر ہے جو کہ قربانیوں سے بھری پڑی ہے،اور پارٹی یہاں کے لوگوں کی حقیقی ترجمان جماعت ہے جنہوں نے کبھی بھی ساحل وسائل کی خاطر اصولوں پر سودا بازی نہیں کی اور نہ خاموشی سے راہ فرار اختیار کی،ہر پلیٹ فارم پر پارٹی نے بلوچ قوم اور بلوچستانی عوام کے حقوق سے متعلق دو ٹوک اور ڈنکے کی چوٹ پر موقف اپنا کر حکمرانوں کے سامنے بلوچ قوم اور بلوچستانی عوام کے کیس کو نہایت ہی جرائت اور مدلل انداز میں پیش کیا،مقررین نے کہا کہ 21ویں صدی میں مزید صوبوں کے اختیارات وفاق کے حوالے کرنے سے سنگین بحرانات، تضادات اور کشمکش پیدا ہو گی، جو کہ کسی بھی فریق کیلئے سود مند ثابت نہیں ہونگے، بی این پی کیلئے اقتدار مراعات کسی اہمیت کا حامل نہیں ہے، ہمارے جد و جہد کا محور و مقصد بلوچستان کے وسائل کا ہر لحاض سے دفاع اور تحفظ کرنا ہے،ا ور اس کی پاداش میں ہم ہر قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرینگے کیونکہ ہم آنے والی تاریخ کے سامنے ایسے عمل نہیں دوہرائیں گے کہ جس سے ہماری قومی شناخت و وجود خطرے سے دوچار ہو، مقررین نے کہا کہ ساحل وسائل سے متعلق بلوچستان کے شیئرز 50فیصدسے زیادہ بڑھائے جائیں وفاق کے اختیارات کو کم کیا جائے کیونکہ یہ آئین میں واضع طور پر موجود ہے، صوبے جب مضبوط ہونگے تب وفاق بھی مضبوط ہوگا، مقررین نے کہا کہ بلوچستان کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک جاری ہے، اور بلوچستان کو ایک صوبے کی بجائے ایک کالونی کے طرز پر چلایا جا رہا ہے جو کہ حکمرانوں کی 70سالوں کی روا رکھی گئی پالیسیوں اور روش کا تسلسل ہے، ملک کے دیگر صوبوں کے وسائل کا اختیار انہیں کے پاس ہے جبکہ بلوچستان قدرتی دولت سے مالا مال سیندک اور دیکوڈک کو وفاق کے حوالے کر کے بلوچستان کو مزید احساس محرومیوں اور پسماندگیوں کی طرف دھکیلنے کی گھناؤنی سازشیں کی جا رہی ہیں اور خاص کر بی این پی جیسی فعال اور متحرک اور یہاں کی مقبول ترین حقوق کی نمائندہ سیاسی قوم وطن دوس ترقی پسند سیکولر نظریات رکھنے والی جماعت کو دیوار سے لگانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں،اس موقع پر پارٹی کے مرکزی فنانس سیکرٹری پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین ایم پی اے اختر حسین لانگو، مرکزی انسانی حقوق کے سیکرٹری ایم پی اے احمد نواز بلوچ، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران چیئرمین جاوید بلوچ، آغا خالد شاہ دلسوز، حاجی باسط لہڑی، شمائلہ اسماعیل مینگل، ٹکری شفقت حسین لانگو، انجینئر ملک محمد ساسولی، چیئرمین واحد بلوچ سمیت بی این پی کے ضلعی عہدیداران اور مختلف یونٹوں سے تعلق رکھنے والے کارکنان اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔


