جمرات کو ایسی جگہ دھرنا دینگے حکمرانوں کی سانس رک جائیں گی، ہدایت الرحمان

کوئٹہ: حق دوتحریک کے قائد جماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکرٹری مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہاکہ ڈیڑھ ماہ سے احتجاج ودھرنے میں عوام کے درمیان موجودہیں۔حکومت،انتظامیہ،بااختیار طبقات اورمنتخب نمائندے مظلوم عوام ودھرنے والوں کاتماشاکررہے ہیں ہم جائزمطالبات کیلئے قانونی طریقے سے احتجاج کررہے ہیں ٹرالرکافیاکو ہر صورت روکھیں گے ہم جمہوری لوگ ہیں جائزطریقے سے کاروبار کرنا چاہتے ہیں بدقسمتی سے حکومت وسائل دے رہی ہے نہ روزگار اورنہ قانونی طریقے سے کاروبار کرنے دے رہی ہے۔بھتہ مافیارقم دیکر راشی آفیسرزسے کام لے رہے ہیں یہ لٹیروں،چوروں اور سمندری حیات کا قتل کرنے والوں کو معاف نہیں کریں گے۔عوام ہمارے ساتھ ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ ٹرالرمافیاز،بھتہ خورسیکورٹی فورسزاورچیک پوسٹوں پر رقم لیکر ہرناجائزوغلط کام کرنے والوں کے خلاف ہم میدان میں نکلے ہیں ہم سے ہماراکاروبارروزگار چھین لیا گیا ہے روزگار کے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ علاقے میں ہرکلومیٹر پر قائم چیک پوسٹس ختم کی جائیں۔ گوادر میں شراب کے کاروبار پر پابندی لگائی جائے۔ گوادر میں نوکریوں پر مقامی لوگوں کو رکھا جائے۔ہم کو معلوم ہے کہ امریکہ اور بھارت سی پیک کے مخالف ہیں۔ ہم معاشی راہداری کے دشمنوں کو خوب پہچانتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں ملک ترقی کرے عوام کو روزگار ملیں۔ عوام کو ان کا حق دیا جائے۔ پی ٹی آئی، ن لیگ،باپ، پی پی نے بلوچستان سے ظلم کیا۔ صوبائی حکومت کو عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ حکمرانوں کو عوام کو سننا پڑے گا۔ ”حق دو تحریک“کسی دباؤ کے تحت ختم نہیں ہوگی۔ہم بچوں اور نوجوانوں کو تعلیم دلوانا چاہتے ہیں۔ ہم حکمرانوں کو پیغام دیتے ہیں کہ بلوچستان سے زیادتی کا کھیل ختم کرے۔ یہ ملک صدر پاکستان، وزیراعظم، آرمی چیف کا ہی نہیں، کروڑوں پاکستانیوں کا بھی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ عدالتیں لوگوں کو انصاف دیں، ایوان میں قانون سازی ہو اور ادارے وہ کام کرے جو آئین کے مطابق ان کی ذمہ داری ہے۔ بلوچ عوام ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ میں ہمارا ساتھ دیں کیونکہ ان کے مسائل کا حل صرف اور صرف اسلامی نظام میں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں