لاقانونیت کا راج، چیدگی بارڈر پر روزانہ سیکڑوں گاڑیوں سے بھتہ لیا جاتا ہے، پنجگور تاجران
پنجگور (انتخاب نیوز) پاک ایران بارڈر پر چھوٹے پیمانے پر تیل کے کاروباری شخصیت کا کہنا ہے کہ پنجگور میں لاقانونیت کی نظیر پوری دنیا میں نہیں ملتی ہے تاریخ گواہ اور لوگ زبان سے انہیں دوراتے ہیں کہ پنجگور بشمول ڈویژن مکران میں سرداری نظام نہیں ہے لیکن چیدگی بارڈر معاملے نے ثابت کردیا ہے کہ پنجگور میں سرداری نظام موجود ہے جہاں نہ ضلعی انتظامیہ کا بس چلتا ہے نہ سیاسی لیڈروں کا بس چلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیدگی بارڈر پر غریبوں کے منہ کے نیوالا چھینے کے جیسے غیر قانونی غیر آئینی غیر انسانی عمل نے انہیں شدید مشکلات کا شکار بنا دیا ہے، چیدگی بارڈر پر روزانہ تین سو گاڑیاں گزرتے ہیں، فی گاڑی سے 3000 ہزار الگ 2000 الگ وصول کیا جاتا ہے ماہانہ کروڑوں روپے کس کو مل رہے ہیں کیوں مل رہے ہیں ضلعی انتظامیہ و دیگر سیاسی جماعتیں خاموش ہیں انہوں نے کہا ہے کہ عجیب بات ہے کہ جیرک بارڈر پروم میں تیل کا ریٹ کم جبکہ چیدگی بارڈر میں اس سے کئی گنا زیادہ ہے اگر دیکھا جائے چیدگی بارڈر ایران کے ذرائع ابلاغ کے بالکل قریب ہے انہوں نے کہا ہے کہ پتہ کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ وہاں سیلکڈڈ ریٹ چند افراد نے لگایا ہے انہی کی منشا پر ریٹ بڑھا دیا گیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ بھتہ دینے اور گراں قیمتوں میں تیل لینے کی وجہ سے گاڑی مالکان کو کچھ نہیں مل رہا ہے وہ بنام کاروبار صرف بھتہ خوروں کیلئے کررہے ہیں فی گاڑی کی ٹرپ 35 سے 40 دن جارہی ہے کاروبار کا ٹوٹل آمدن 20/30 ہزار ہے انہیں گاڑی پر خرچ کریں یا خود کھائیں دنوں طرف صرف مشکل نظر آتا ہے البتہ بغیر اسٹیکر ٹوکن جو رات کے وقت گزرتے ہیں انکو فاہدہ مل رہا ہے انہوں نے کہا ہے کہ کمشنر مکران پنجگور میں لاقانونیت کا نوٹس لیں۔


