صوبے کی خونی شاہراہوں پر بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں، سڑکوں کو دو رویہ کیا جائے، اراکین بلوچستان اسمبلی کا مطالبہ
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان اسمبلی نے کوئٹہ چمن،کراچی وکوئٹہ ژوب شاہراہوں کی تعمیراتی کام فوری طورپر شروع کرنے اور بلوچستان ہائی کورٹ کے سبی،خضدار،تربت اور لورالائی سرکٹ بینچوں کی ریگولر بنیادوں پر فعالیت سے متعلق دو قراردادیں منظور کرلی جبکہ صوبائی وزیر حاجی محمددمڑ کی پاک افغان سرحد پر جھڑپوں سے متعلق قرارداد کو مطلوبہ اکثریت حاصل نہ ہونے پر منظور نہ ہوسکا۔ گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی کا اجلاس زیر صدارت قائم مقام اسپیکر سردار بابر موسیٰ خیل ایک گھنٹہ 20منٹ تاخیر سے منعقد ہوا، اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی نصر اللہ زیرے نے قرار داد پیش کی جس میں موقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کی مختلف شاہراہوں جن میں ژوب ٹو کوئٹہ اور چمن ٹو کوئٹہ شامل ہیں کو دورویہ کرنے کی منظوری دی تھی اس حوالے سے اخبارات میں ٹینڈر بھی ہوئے لیکن ان شاہراہوں کو دورویہ کرنے کی بابت تعمیراتی کام تاحال شروع نہیں ہوا ہے، جس کی وجہ سے مزکورہ شاہراہوں پر آئے روز خوفناک ٹریفک حادثات ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، یہ ایوان وفاقی حکومت سے رابطہ کر کے مزکورہ شاہراہوں پر تعمیراتی کام فور ی طور پر شروع کرنے کو یقینی بنائین، نصراللہ زیرے نے قرار داد کے موزونیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان خونی شاہراہوں پر بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، گزشتہ ہفتے عبدالمالک بڑیچ کے خاندان کے 9افراد لقمہ اجل بنے،ان شاہراہوں کو دورویہ بنانے سے حادثات میں کمی ہوگی، انہوں نے کہا کہ سی پیک کی مد میں ملنے والی رقم سے ملک کے مختلف حصوں میں موٹرویز بنائے گئے لیکن بلوچستان اس سے محروم ہے، قرار داد پر اظہار خیال کرتے ہوئے اصغر خان اچکزئی، اختر حسین لانگو نے کہا کہ بدقسمتی سے بلوچستان میں شاہراہوں کی تعمیر پر کوئی توجہ نہیں دے رہا حادثات میں قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، بلوچستان پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے نصف حصے پر قائم ہے، چمن سے کراچی اور کوئٹہ ژوب شاہراہ کی تعمیر کو یقینی بنایا جائے، جس پر قائم مقام اسپیکر نے اراکین اسمبلی کی رائے شماری پر اس قرار داد کو مشترکہ قرار داد قرار دیکر منظور کر لیا،اسمبلی اجلاس میں اختر حسین لانگو او راصغر خان اچکزئی کی جانب سے مشترکہ قرار داد بی این پی کے رکن صوبائی اسمبلی اختر حسین نے ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہا کیونکہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے وسیع و عریض صوبہ ہے، یہاں کے لوگوں کو دیگر بہت سے مسائل کے ساتھ ساتھ فوری انصاف کے حصول میں بھی سخت مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے علاوہ اندرون صوبہ جن میں لورالائی سبی خضدار اور تربت میں بلوچستان ہائیکورٹ کے جو بینچز منظور کئے گئے ہیں، وہ عرصہ دراز سے غیر فعال ہیں، جسکی وجہ سے لوگوں کو انصاف کے حصول میں سخت مشکلات کا سامنا ہے، یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ معزز چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان سے رجوع کرے کہ وہ لورالائی سبی تربت میں بلوچستان ہائیکورٹ کے منظور شدہ بینچز کو ریگولر بنیادوں پر فعال کرنے کی بابت ضروری احکامات صادرفرمائیں تاکہ عوام کو فوری انصاف کی فراہمی ممکن ہو، اختر حسین لانگو نے قرار داد کی موزونیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے وسائل سیند ک ہو ریکوڈک ہو یا ساحل وسائل معدنی دولت پر وفاق کی نظر ہے، لیکن بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ان کے پاس فنڈز نہیں اصغر خان اچکزئی نے قرار داد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی بلوچستان کے لوگ دور دراز علاقوں سے کوئٹہ آکر انصاف کیلئے پریشان ہو رہے ہیں، لورالائی سبی خضدار تربت میں قائم بلوچستان ہائیکورٹ کے بینچز کو فعال کیا جائے تاکہ لوگوں کو انصاف کی فراہمی میں آسانی ہو نصر اللہ زیرے اور دیگر اراکین نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یقین یہ جائز مطالبہ ہے، اس پر فوری طور پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، دور دراز علاقوں سے لوگ انصاف کیلئے کوئٹہ کا رخ کرتے ہیں اگر انکے اپنے علاقوں میں بلوچستان ہائیکورٹ کے بینچز فعال کئے جائیں تو یقینا انہیں انصاف کی فراہمی میں آسانی ہوگی، جس پر ایوان کی رائے سے قرار داد کو منظور کر لیا گیا۔


