کوئٹہ اور مضافات میں گھروں میں ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ، عوام کو چوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا، بی این پی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کونسل کے ممبرومرکزی سوشل میڈیا کمیٹی کے ممبر ادریس پرکانی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آئے روز کوئٹہ کے مضافات میں دن دیہاڑ ے گھرو ں میں گھس کرخواتین اور بچوں کو یرغمال بنا کر چوری و ڈکیتی کی جارہی ہے جبکہ اس میں شدید اضافہ ہوتا جارہا ہے،پولیس و انتظامیہ نے عوام کوچوروں کے رحم وکرم پر چھوڑدیا ہے،عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے،عوام میں شدیدو خوف ہراس پائی جاتی ہے۔پہلے رات کے اندھیرے میں ایسی وارداتیں ہواکرتی تھی۔ اب دن دیہاڑے لوگ اپنے گھروں میں محفوظ نہیں،جبکہ گھر کے افراد اپنے کام کاج یاروزگار کے سلسلے میں باہر جاتے ہیں تب ہی دن کی روشنی میں ڈاکو گھروں میں گھس کر خواتین اور بچوں کو یرغمال بنا کرچادروچاردیواری کی تقدس کو پامال کرتے ہوئے بلوچستان کی قبائلی روایات کو پاؤں تلے روند دیاجاتا ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں پارٹی کے رہنماؤں حمید بلوچ، میر زعفران خان مینگل، قدوس بلوچ، ظریف بلوچ،جاوید بلوچ، صفی پرکانی، فضل پرکانی،عنایت اللہ گرگناڑی،شبیر سمالانی، میر عرفان بنگلزئی،علی سمالانی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کوئٹہ کے مضافات بلخصوص ہزارگنجی، مشرقی بائی پاس، کلی الماس، کلی عالمو، کلی عالم خان، کلی سمال آباد، کیچی بیگ، فیض آباد، کلی سردہ، وحدت کالونی، کلی لال آبادہزارگنجی، موسیٰ کالونی، مگسی اسٹاپ تختانی بائی پاس، لیبر کالونی سمیت کئی علاقوں سے چوری کی وارداتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، پولیس اور انتظامیہ کی جوں تک نہیں رینگتی۔ ان واقعات کی وجہ سے گھروں میں خواتین اور بچوں شدید کوفت میں مبتلا ہوچکے ہیں اور علاقوں میں خوف و ہراس پائی جاتی ہے، انہوں نے اعلیٰ حکام بلخصوص وزیر اعلیٰ بلوچستان، وزیر داخلہ بلوچستان آئی جی ایف سی آئی جی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام میں اپنی بھر پور کردار ادا کریں۔بصورت دیگر پارٹی عوام کے ساتھ ملکر سڑکوں پر شدید احتجاج کرنے کا حق رکھتی ہے۔


