گوادر میں 144 نافذ، تین دن سے انٹرنیٹ اور بجلی بند، گھروں میں گھس کر لوگوں کو اٹھانے کا سلسلہ جاری ہے، حق دو تحریک

گوادر (انتخاب نیوز) حق دو تحریک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گوادر میں حق دو تحریک بلوچستان کے بینر تلے گوادر کے ماہیگیر و محنت کش اپنے جائز حقوق مانگنے کے پاداش میں تین دن سے بدترین شیلنگ، لاٹھی چارج، گرفتاریوں اور گھروں کی دیواروں کو پھلانگ کر خواتین پر تشدد اور مردوں کو اٹھانے جیسے ناروا اقدامات کا سامنا کررہے ہیں۔ اب تک حق دو تحریک کے سینکڑوں کارکنان و قائدین پابند سلاسل، ہزاروں بچے بوڑھے، خواتین و مرد شدید زخمی و ہلاکتوں کی اطلاعات آرہی ہیں۔ گوادر میں غریب عوام کی چیخیں دبانے کے لئے دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔ گلی محلوں میں ایف سی اور پولیس کی گاڑیاں گشت کرکے اور گھروں میں گھس کر لوگوں کو اٹھا رہے ہیں۔ تین دن سے انٹرنیٹ اور بجلی بند کردی گئی ہے۔ جمہوری، سیاسی اور پرامن لوگوں پر ریاستی فورسز کے مظالم جاری ہے۔ ان تمام تر مظالم اور نااہل صوبائی حکومت و کرپٹ بیوروکریسی کے مجرمانہ رویے کیخلاف کل بروز جمعرات بوقت دوپہر 1 بجے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ ہوگا۔ حق دو تحریک بلوچستان کیچ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہی کہ حق دو تحریک کیچ کے کارکنان و ذمہ داران کے گھروں پربلاجواز چھاپے قابل مذمت ہیں، گھروں میں گھس کر بلوچ خواتین پر تشدد اور چادر و چاردیواری کے تقدس کی پامالی بلوچی روایات کے برعکس ہے، حق دو تحریک کیچ کے مشاورتی کمیٹی کے ممبران و ذمہ داران نوید بلوچ، عدنان یاسین و دیگر کے گھروں پر چھاپہ مار کر خواتین اور بچوں کو زد کوب کیا گیا، حق دو تحریک کے مرکزی دھرنے پر فوج کشی حق دو تحریک کے مرکزی رہنما واجہ حسین واڈیلہ و دیگر ذمہ داران و کارکنان کی گرفتاری کیچ میں حق دو تحریک کے ذمہ داران و کارکنان پر بلاجواز غیر قانونی ایف ائی آر کیخلاف 29 دسمبر بروز جمعرات بوقت 12 کیچ پریس کلب سے خواتین و مردوں کی پرامن احتجاجی ریلی نکالی جائیگی۔ اس کے بعد ضلعی مشاورتی کمیٹی کے اجلاس میں آئندہ لے لائحہ عمل کا اعلان کیا جاے گا، سول سوسائٹی اور انجمن تاجران کے نمائندوں سے کل۔پریس کلب میں ملاقات ہوئی آج دوبارہ آل پارٹیز انجمن تاجران سول سوسائٹی، مکران بار، کیچ بار صحافی حضرات اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات ہوگی اور پرامن ہڑتال کے لیے سب سے رائے لی جائے گی۔ بیان میں کہا گیا کہ حق دو تحریک کے تمام گرفتار ذمہ داران و کارکنان کو باعزت رہا اور کیچ کے ذمہ داران و کارکنان پر بے بنیاد ایف آئی آر ختم کیا جائے، نادیدہ مقتدرہ قوتیں اپنی بندوقیں پولیس اور لیویز کے کندھے پر رکھ کر عوام خود کو فرشتہ ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں حالانکہ گوادر پورٹ پر جب ڈی سی گوادر دھرنے کے مقام پر آئے تو اس کی باتوں سے واضح ہوا کہ اب ایف سی، فوج، پولیس و لیویز کی وردی میں دھرنے والوں پر حملہ کرے گی تاکہ لوگوں کی نفرت ضلعی انتظامیہ سے ہو اور ایف سی و فوج بری الذمہ ہوجائیں، لہذا پولیس اور لیویز بلوچ ادارے کے نام پر جانے جاتے ہیں وہ بلوچستان میں بلوچ قومی دشمنوں کے ہاتھوں استعمال نہ ہوں، یہ بات قابل ستائش ہی کہ گوادر میں لیویز و پولیس کے کئی اہلکاروں نے گوادر میں خواتین مظاہرین پر حملے سے انکار کیا تھا جس پر انھیں ملازمت سے برطرف کیا جا چکا ہے، پرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے اپنے بنیادی حقوق کیلئے آواز اٹھانے اور ریلی نکالنے پر حق دو تحریک کے کارکنان و ذمہ داران پر پریشر ڈالنے کو کوشش ہورہی ہے، بلوچ قوم پر جمہوری جدوجہد کے تمام راستے بند ہوچکے ہیں اور بلوچ کومجبور کیا جاچکا ہے کہ آخری راستہ اپنائے، ایسے حالات میں اگر اب بھی ایسے سادہ لوگ موجود ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے مسائل کا حل جمہوری جدوجہد کے ذریعے ممکن ہے تو میرے خیال میں یہ کم از کم ریاست کے لیے نقصان نہیں مگر افسوس کہ ریاست پاکستان کی نظر میں ہر بلوچ تخریب کار ہے، چاہے کسی جمہوری تنظیم کا سیاسی کارکن ہو یا مسلح جہدکار، طاقت کے زور پر بلوچ قوم کو اپنے بنیادی حقوق سے محروم نہیں رکھا جاسکتا، بلوچ اپنے اصل دشمنوں سے اچھی طرح واقف ہے، ہم آل پارٹیز، سول سوسائٹی، انجمن تاجران وکلاء برادری اسٹوڈنٹس آرگنائزیشنز سمیت کیچ کے تمام اسٹیک ہولڈز سے درخواست کرتے ہیں کہ اس ظلم کیخلاف آواز بلند کریں، صحافی حضرات سے گزارش ہے کہ ہماری آواز بنیں، یہ بلوچ قوم کے ننگ و ناموس، قومی تشخص و بقاء کی جنگ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں