سریاب روڈ کا توسیع منصوبہ تاخیر کاشکار، متاثرہ دکانداروں کو معاوضے کی ادائیگی بھی نہ ہوسکی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) سریاب کی توسیع کا منصوبہ تاخیر کا شکار ہونے کی وجہ سے علاقہ مکین اور وہاں سے گزرنے والے شہری مختلف امراض میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ ذہنی مریض بن چکے ہیں حکومت کی جانب سے متعلقہ ٹھیکیداروں کو بروقت فنڈز کی فراہمی نہ یقینی بنانے کی وجہ سے کام التواکا شکار ہے گزشتہ چار سال سے مذکورہ روڈ کی تعمیرکا آغاز ہوا تھا اور ہزاروں کی تعداد میں سڑکوں کے دونوں جانب دکانیں گرا کر لوگوں سے روزگار بھی چھین لیا گیا تا حال نہیں معاوضے کی ادائیگی ممکن نہیں بنائی گئی اور نہ ہی ان دکانداروں کو اپنی دکانوں کی دوبارہ تعمیر اور کاروبار شروع کرنے کی اجازت دی گئی جس کی وجہ سے آئے روز تاجر برادری متاثرین دکانداران سراپا احتجاج رہتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے متاثرین کو جو معاوضہ دیا جارہا ہے وہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق کم اور آٹے میں نمک کے برابر ہیں ادائیگی کے حصول کیلئے بار بار انتظامی آفیسران کے دفاتر کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں اور ملنے معاوضے سے کئی زیادہ ان کے کرایوں اور دیگر اخراجات پر رقم خرچ ہورہی ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے متاثرین دکانداران اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو، چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی اور دیگر حکام سریاب روڈ، سبزل روڈ، مغربی بائی پاس لنک بادینی، قمبرانی روڈ کی تعمیر میں سست روی اور ٹھیکیداروں کو فنڈز کی عدم فراہمی کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر معاوضے کی ادائیگی اور فنڈز کا اجراکرکے التواکا شکار ان سڑکوں کی تعمیر کو مکمل کرکے لوگوں اور شہریوں میں پائی جانے والی بے چینی دور کرکے انہیں مختلف امراض میں مبتلا ہونے سے بچایا جائے اور لوگوں کو اپنی دکانیں بنانے کی اجازت دیکر اس مہنگائی کے دور میں کاروبار کرنے کی سہولیات دی جائیں۔


