خضدار سے لاپتہ ممتاز علی کو بااثر افراد کی نجی جیل سے رہائی دلائی جائے، اہلخانہ کی پریس کانفرنس
خضدار (انتخاب نیوز) یونین کونسل گ±نکو تحصیل زہری کے رہائشی محمدعلی بارانزئی، سمیع اللہ بارانزئی، فیض بی بی و دیگر خواتین نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممتاز علی اپنی والدہ فیض بی بی کے ہمراہ چند دن قبل گنکو سے ضلع سوراب کے ایریا انجیرہ میں اپنے رشتہ داروں کے ہاں گئے تھے کہ وہاں کچھ اسلحہ بردار لوگ ایک سرف گاڈی میں آئے اور ممتازعلی کو گھسیٹ کر مارتاہوا گاڑی میں سوار کیا اور ان کی 125 ہنڈا موٹرسائیکل بھی اٹھاکر لے گئے، ایک ہفتہ سے نجی جیل میں ممتازعلی کو بھوکا پیاساقید رکھاہوا ہے، مذکورہ لوگوں کی جانب سے ممتازعلی کی رہائی کیلئے پانچ لاکھ روپے طلب کیے جا رہے ہیں اور بذریعہ واٹس اپ ممتاز علی کی تشدد والی تصویریں سینڈ کرکے کہا جا رہا ہے کہ پیسہ دو ورنہ ممتاز کا اس سے بھی برا حشر کریں گے۔ انہوں نے وہ تصویریں صحافیوں کو دکھاکر کہاکہ ہم غریب لاچار لوگ ہیں، پانچ لاکھ روپے دینے کی سکت نہیں، بغیر کسی وجہ اور گناہ کے ہمارے بچے کو نجی جیل میں قید رکھا گیا ہے، ہم ریاست کے سامنے فریاد لیکر آئے ہیں کہ ہمیں اس ظلم سے نجات دیں، اسی طرح نواب ثنا اللہ خان زہری سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ اس مسئلے کا نوٹس لیکر ہمیں انصاف فراہم کریں۔ انہوں نے کہاکہ اگر ممتاز علی نے کوئی جرم کیا ہے تو وہ سامنے لایا جائے، ان پر کیس کیا جائے قانون موجود ہیں، عدالتیں ہیں، آخر کیوں بغیر کسی وجہ اور گناہ کے نجی جیل میں اس کو بند کیا ہوا ہے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ ہمارے بچے پر کوئی گناہ نہیں اور نہ وہ مجرم ہے، ان کا پیشہ بکریاں چرانا ہے، اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں۔ لہٰذا ارباب اختیار ہمیں اس کرب سے نجات دیں بصورت دیگر ہم شاہراہ بند کرنے سمیت کمشنر قلات ڈویژن کے دفتر کے سامنے خواتین و بچوں سمیت دھرنا پر مجبور ہوں گے۔


