بلوچستان حکومت کا خزانہ خالی ہے ہمیں فوری طور پر 4لاکھ گندم کی بوریوں کی ضرورت ہے ورنہ آٹے کا بحران شدت اختیار کر جائیگا، صوبائی وزیر خوراک
کوئٹہ (آن لائن)صوبائی وزیر خوراک انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں گندم کے بحران پر قابو پانے کیلئے وفاقی حکومت اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ہمیں ضرورت کے مطابق گندم کی فراہمی یقینی بنائے ایسا نہ کرنے کی صورت میں یہ صورتحال گھمبیر ہو سکتی ہے، صوبائی حکومت وفاق میں شدید احتجاج کرے گی، پنجاب اور سندھ نے پرائیویٹ طور پر آنیوالی گندم اور آٹے پر پابندی عائد کر رکھی ہے اگر فوری طور پر ہمیں 5سے6لاکھ گندم کی بوریاں دی جائیں تو ہم مارچ تک نئی گندم کی مارکیٹ میں آنے تک اپنے بحران پر قابو پاتے ہوئے عوام کو آٹے کی فراہمی ممکن بنا سکتے ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کی شب سول سیکرٹریٹ میں سیکرٹری خوراک ایاز مندوخیل، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ شہک بلوچ، پاکستان فلورز ملز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین بدر الدین کاکڑ صوبائی صدر فلور ملز ایسوسی ایشن ناصر آغا کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا، انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان کی سالانہ گندم کی ضرورت 1کروڑ 52لاکھ 100کلو والی بوریاں ہیں، اورمحکمہ خوراک 12لاکھ بوریاں گندم کی خریدتی ہے، سیلاب کی وجہ سے اس سال 2لاکھ 60ہزار گندم کی بوریاں خریدی گئیں اور ہم اپنے سالانہ ہدف کو پورا نہ کر سکے، ہمیں اس وقت گندم کی اشد ضرورت ہے، 4سے 5لاکھ بوریاں پنجاب سے حاصل کرنے کیلئے میں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کی انہوں نے وعدہ کیا لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا جس کے بعد ہم نے 2لاکھ گندم کی بوریاں پاسکو سے خریدی ہیں جن میں سے 10ہزار موصول ہو چکی ہیں، وفاق سے رابطہ کیا تو پاسکو نے گندم فراہم کی ہمیں 4ماہ کیلئے 5لاکھ گندم کی بوریاں دستیاب تھیں، ہمارا گندم کیلئے 85فیصد انحصار پنجاب اور سندھ پر ہوتا ہے، پاسکو سے درخواست ہے کہ بغیر سبسڈی کی ادائیگی کے پرانی قیمت پر گندم فراہم کی جائے ہمیں فوری طور پر 4لاکھ گندم کی بوریوں کی ضرورت ہے ورنہ آٹے کا بحران شدت اختیار کر جائیگا، بلوچستان حکومت کا خزانہ خالی ہے ہم سبسڈی نہیں دے سکتے،وفاق سندھ اور پنجاب سے گندم کی فراہم یقینی بناتے ہوئے بحران کو ختم کرنے میں مدد دے، اور وفاق نے ایم ایف سی کے 30ارب روپے جو کہ واجب الادا ہیں وہ فراہم کرے اس کے علاوہ فنانسنگ کے 6ارب روپے بھی ادا نہیں کئے جا رہے، ہماری مدد کرنے کی بجائے ہمارا حق بھی نہیں دیا جا رہا جس کی وجہ سے ہم اپنے لوگوں کو 2ارب روپے کی سبسڈی بھی نہیں دے سکتے، اگر گندم کی فراہم ممکن نہ بنائی گئی تو آنے والے دو ماہ میں بحران مزید شدت اختیار کر جائیگا، وزیراعلیٰ بلوچستان نے وزیراعظم اور وفاق کو خط لکھے ہیں کہ ہمیں اس بحرانی کیفیت میں سپورٹ کریں نہ کہ ہمیں اکیلا چھوڑیں، حکومت ذخیرہ اندوزی کی اجازت نہیں دے گی، اس کیخلاف کارروائیاں کی جائینگی، وفاق نے ایم ایف سی کی مد میں پچھلے 11ارب روپے بھی ادا کرینے ہیں، اس کے علاوہ پیٹرولیم کی مد میں 30ارب روپے بھی ادا نہیں کئے گئے اگر یہی روش برقرار رہی تو با امر مجبوری صوبائی حکومت، کابینہ،وزراء، سینیٹر، ایم این ایز اور ایم پی ایز وفاق کیخلاف احتجاج کرینگے، ان کا کہنا تھا کہ یوٹیلٹی سٹورز کو صوبے کیلئے 40لاکھ بوریاں آٹا ملتا ہے وہ کہا جا رہا ہے کسی کو پتہ نہیں اگر صحیح طریقے سے چیزوں کو بہتر بنایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم 30سے 40فیصد بحران پر قابو پا لیں گے، اگر وفاق نے ساتھ نہ دیا تو ہم احتجاج پر مجبور ہونگے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاسکو سے گندم لے رہے ہیں، ہماری درخواست ہے کہ جس قیمت پر گندم خریدی گئی ہے اسی قیمت پر ہمیں فراہم کی جائے، 2لاکھ 96ہزار بوریوں سے ہم ستمبر سے فلورملز کو کوٹہ فراہم کر رہے ہیں، سیلاب میں محکمہ خوراک کی کوئی گندم خراب نہیں ہوئی، جس طرح حکومت دوسرے صوبوں کو سبسڈی کے ذریعے گندم دے رہی ہے، ہمیں بھی مقامی اور امپورٹ کی جانیوالی گندم سبسڈی ریٹ پر دی جائے اور یہ سبسڈی وفاق ادا کرے کیونکہ ہمارے پاس وسائل نہیں 2لاکھ گندم کی بوریوں میں سے 10ہزار بوریاں پہنچ چکی ہیں، اگر ہمیں 5سے 6لاکھ بوریاں گندم فراہم کی جائے تو ہم مارچ تک نئی فصل آنے تک اپنے صوبے کی ضرورت پوری کر سکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ پنجاب 4سے 5کروڑ بوری خریدتا ہے اور ان کی روزانہ کا کوٹہ 2لاکھ 20ہزار بوری ہے اگر وہ ہمیں گندم فراہم کرتا ہے تو انکے تین دن کے کوٹے کے برابر ہماری ضرورت ہے جسکو پورا کرنا چاہئے، اس موقع پر فلور ملز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین بدر الدین کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان کیساتھ زیادتی ہو رہی ہے، حا لانکہ 18ویں ترمیم کے بعد خوراک کی ضرورت پوری کرنا صوبوں کا کام ہے، قومی شاہراہوں پر گندم کی ترسیل کو روکنا کسی صورت بھی قانونی نہیں 85فیصد ضروریات دوسرے صوبوں سے پوری کی جاتی ہیں، اور بلوچستان کا روز اول سے یہی مطالبہ رہا ہے، کہ ہماری ڈیمانڈ کو پورا کیا جائے، اس حوالے سے وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کو خط لکھے ہیں، گزشتہ دو ماہ سے ہم اپنے پاس گندم کا ذخیرہ ختم ہونے کا واویلا مچا رہے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہو رہی بلوچستان کے لوگوں کو سندھ اور پنجاب سے اپنی ضرورت پوری کرنے کیلئے اجازت نہیں دی جا رہی اور نہ ہی پرائیویٹ طور پر گندم لانے کی اجازت ہے، وفاق کی ذمہ داری ہے کہ وہ فیڈریشن کی اکائیوں کو متحد رکھنے کیلئے بلوچستان کی اس بحرانی صورتحال پر قابو پانے کیلئے پنجاب اور سندھ سے گندم کی فراہمی ممکن بنانے کیلئے خود بھی گندم فراہم کرنے کیلئے کردار اد ا کرے، وفاقی حکومت ساڑھے تین سال تک کے پی کے کو اس کے علاوہ گلگت بلتستان کو گندم پر سبسڈی دے رہی ہے ہم بھی پاکستان کا حصہ ہیں، اور ملک کا رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ مشکل صورتحال سے دوچار ہے، لوگوں کی مشکلات دور کرنے کیلئے وفاق کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،


