سول ایویشن کا کارنامہ،بغیر منظوری کے70ارب کا انوکھا منصوبہ
اسلام آ باد (انتخاب نیوز) سول ایویشن کا کارنامہ،بغیر منظوری کے70ارب کا انوکھا منصوبہ،سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی واضع ہدایات اور حکم کے باوجود سول ایویشن اتھارٹی نے اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے تیسرے رن وے پر کام شروع کر دیا ہے، اس منصوبے پر70 ارب روپے سے زیادہ کی لاگت آئے گی، تیسرے رن وے کی تیاری میں سول ایویشن اتھارٹی کو لاہور ہائی کورٹ نے زمینوں کی خریداری سے پہلے ہی روک دیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے اپنے آرڈر میں لکھا ہے کہ مقامی لوگوں کو بلاجواز پریشان مت کیا جائے. ذرائع کے مطابق تیسرے رن وے کی فوری ضرورت کے سوال پر سول ایویشن کے حکام عدالت اور دیگر اداروں کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔ ایک اندازے کے مطابق تیسرے رن وے کی اگلے پچاس سال ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ 2017 میں تیسرے رن وے سے متعلق ایک میٹنگ میں اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے واضع حکم دیا تھا کے اس پراجیکٹ پر کام نہ کیا جائے۔ وزیراعظم کی ہدایت کے بعد اس پر کام روک دیا گیا تھا۔ لیکن پاکستان تحریک انصاف کے آخری سال بغیر کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کے اس پر اچانک کام شروع کر دیا گیا۔ پاکستان مسلم لیگ کی سابقہ حکومت ایئرپورٹ کے دیگر منصوبوں جیسا کہ ہوٹل، 500 ایکڑ گالف کورس پر کام شروع کرانے ارادہ رکھتی تھی جو حکومت کے خاتمے کے سبب پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔ واضع رہے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو لندن کے گیٹ وک ایئرپورٹ ڈیزائن کے مطابق بنایا گیا تھا۔ باوجود اسلام آباد کی نسبت کئی گنا زیادہ ایئر ٹریفک کے گیٹ وک ایئرپورٹ کے صرف دو رن وے ہیں اور تمام ضروریات پوری کر رہے ہیں۔ سول ایویشن کے اپنے سروے کے مطابق اس وقت اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو پچاس لاکھ مسافر سالانہ استعمال کرتے ہیں۔ 2050 میں یہ تعداد پانچ کروڑ تک جا سکتی ہے جو کہ گیٹ وک ایئرپورٹ کے ماڈل کو مدنظر رکھتے ہوئے دو رن ویز سے باآسانی ہینڈل ہوسکتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ صرف زمین کی خریداری کی مد میں سول ایویشن کو 20 ارب روپے سے زیادہ کی رقم درکار ہو گی اگر زمین کنٹرولڈ ریٹ پر خریدی جائے۔ اس ضمن میں معزز عدالت پہلے ہی حکم جاری کر چکی ہے کہ مقامی لوگوں کی قیمتی زمینیں اونے پونے داموں نہ خریدی جائیں۔ اس وقت مطلوبہ زمین کی قیمت 50 ارب روپے ہے۔ اس پراجیکٹ کا نہ تو کوئی پی سی ون تیار کیا گیا ہے اور نہ ہی زمینوں کی خریداری سے پہلے سول ایسوشن بورڈ سے کسی قسم کی اجازت لی گئی ہے۔ اس پراجیکٹ کے تحت ایئرپورٹ کے مضافات میں قائم ایک بڑے راما ڈیم کو ختم کر کے ایک نیا ڈیم بنایا جائے گا، جس پر وزارت ماحولیات اور انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کے شدید تحفظات ہیں۔ تاحال سول ایویشن اتھارٹی نے اس ضمن میں کوئی اجازت حاصل نہیں کی۔ سینیئر ایڈوکیٹ ہارون دوگل نے کہا کہ عدالت کے فیصلے کے بعد تیسرے رن وے پر کام کا قانونی طور پر کوئی جواز نہیں. انہوں نے واضع کیا اگر سول ایویشن اتھارٹی کام جاری رکھتی ہے تو یہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے. مقامی زمیندار میاں افضل نے بتایا کہ ایئرپورٹ کی تعمیر کے موقع پر پہلے ہی مقامی زمینداروں کی ہزاروں کنال زمین اونے پونے دام حاصل کی گئی تھی. جس کا فائدہ ایئرپورٹ کی وجہ سے بڑے کاروباری لوگوں کو ہوا. انہوں نے کہا اگر اب دوبارہ وہی عمل دہرایا گیا تو مقامی لوگ اس کے خلاف بھرپور احتجاج کریں گے. مقامی زمینداروں کے مطابق تحریک انصاف حکومت کے کچھ بااثر لوگ اس پراجیکٹ میں دلچسپی رکھتے تھے تاکہ اس میں سے ذاتی فائدہ اٹھایا جا سکے… ماہر معاشیات کا کہنا ہے وفاقی حکومت کو اس قسم کے معاشی ایڈوینچر سے باز رہنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا ایک طرف تو حکومت ایک ایک پیسہ بچانے کی کوشش کر رہی ہے اور دوسری جانب ایسے مہنگے اور بلاجواز منصوبے شروع کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا اتنی خطیر رقم بجٹ سے نکالنا اور اس کے لیے سرمایہ کاری تلاش کرنا ممکن نہیں ہو گا۔


