برازیل، مظاہرین کا صدارتی محل اور پارلیمان پر دھاوا، نئے صدر کیخلاف نعرے بازی

برازیل (مانیٹرنگ ڈیسک)سابق صدر کے حامیوں کا صدارتی محل اور پارلیمان پر دھاوابرازیل میں سابق صدر جیربولسونارو کے حامیوں نے پارلیمانی عمارت پر حملہ کرتے ہوئے نو منتخب صدر اناسیو لوئزلولا دا سلوا سے استعفے کا مطالبہ کردیا، سابق صدر کے حامیوں کا صدارتی محل اور پارلیمان پر دھاوابرازیل میں سابق صدر جیربولسونارو کے حامیوں نے پارلیمانی عمارت پر حملہ کرتے ہوئے نو منتخب صدر اناسیو لوئزلولا دا سلوا سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔خبر کے مطابق، سابق صدر کے حامیوں نے صدارتی محل، پارلیمان اور عدالت عالیہ کی عمارت کا گھیراؤ کرکے توڑ پھوڑ کی اور نئے صدر کے خلاف نعرے لگائے۔بتایا گیا ہے حفاظتی قوتوں نے مظاہرین کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے سرکاری عمارتوں سے قبضہ چھڑا کر علاقے کو بند کردیا ہے۔پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کا استعمال کیا گیا جبکہ چار سو سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر داسلوا نے حفاظتی قوتوں کو دارالحکومت برازیلیا میں مظاہرین کے خلاف بھرپور آپریشن کا حکم دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان مظاہروں کے ذمے دار قانون سے نہیں بچ سکیں گے، حکومت کا قیام ابھی ہوا نہیں جس کا انہوں نے فائدہ اٹھایا ہے،مجھے معلوم ہے کہ یہ کس کی شرارت ہے،سابق صدر کے چند خطابات نے ان مظاہروں اور انہیں کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔دوسری جانب امریکہ ، فرانس اور اقوام متحدہ نے برازیل میں کانگریس عمارت پر حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوری اداروں پر حملے ناقابل قبول ہیں۔لاطینی امریکہ کے سب سے بڑے اور گنجان آباد ملک برازیل میں تیس اکتوبر کو ہوئے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بائیں بازو نظریات کے حامل اور سابقہ صدر لولا دا سلو کو 50٫9 فیصد جبکہ بولسونارو کو 49٫1 فیصد ووٹ ملے تھے ۔ دوسرے مرحلے میں کامیاب ہوئے دا سلوا نے یکم جنوری کو حلف لیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں