متحدہ عرب امارات کا ہولوکاسٹ کی تعلیم نصاب میں شامل کرنے کا اعلان

ابوظہبی (مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ عرب امارات نے ہولوکاسٹ کی تعلیم کو اسکول کے نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ہولوکاسٹ اسٹڈیز کو پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کے نصاب میں شامل کیا جائے گا۔ گلف نیوز نے ٹائمز آف اسرائیل کا حوالے دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ میں متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے نے اعلان کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسکولوں میں ہولوکاسٹ پڑھایا جائے گا، رپورٹ میں فیڈرل نیشنل کونسل (ایف این سی) کے وفد کے سربراہ ڈاکٹر علی راشد النعیمی کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ تاریخی ابراہم معاہدے کے تناظر میں یو اے ای اب پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کے نصاب میں ہولوکاسٹ کی تعلیم کو بھی شامل کرے گا، ہولوکاسٹ کے مطالعے کا مواد یروشلم میں اسرائیل کے سرکاری ہولوکاسٹ میموریل یاد واشم کے تعاون سے تیار کیا جائے گا، معاہدے کے اماراتی ثالثوں میں سے ایک علی النعیمی نے کہا کہ ہولوکاسٹ کے متاثرین کی یادگار بنانا بہت ضروری ہے۔امریکی خصوصی ایلچی Deborah E. Lipstadt نے یو اے ای کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے اس اہم قدم کو دیکھ کر خوشی ہوئی، ہولوکاسٹ کی تعلیم انسانیت کے لیے ناگزیر ہے، میں اس قدم کے لیے متحدہ عرب امارات کی تعریف کرتی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ دوسرے ممالک بھی جلد ہی اس کی پیروی کریں گے۔ متحدہ عرب امارات کی فیڈرل نیشنل کونسل کے رکن اور ابراہم معاہدے کے ثالث ڈاکٹر علی النعیمی نے نومبر میں واشنگٹن میں ہونے والی ایک تقریب میں کہا تھا کہ ہولوکاسٹ کے متاثرین کی یاد منانا بہت ضروری ہے، عوامی شخصیات سچ بتانے میں ناکام رہیں کیوں کہ ایک سیاسی ایجنڈے نے ان کے بیانیے کو ہائی جیک کر لیا، جب کہ ہولوکاسٹ کی شدت کا المیہ صرف یہودیوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں