حق دو تحریک پسنی کے کارکنان پر پولیس اہلکار کے قتل کا مقدمہ ناجائز ہے، شفاف تحقیقات کرائی جائے، کارکنان

پسنی، گوادر (انتخاب نیوز) حق دو تحریک کے مرکزی ماہی گیر نمائندہ عزیز اسماعیل نے کہا کہ حق دو تحریک پسنی کے کارکنان پر پولیس اہلکار کے قتل کا مقدمہ ناجائز اور ظلم ہے اس واقعہ کی پاک اور شفاف تحقیقات ہونی چاہیے،جس نے واقعہ پیش آیا کارکنان پسنی میں موجود تھے،سمندر میں غیرقانونی ٹرالنگ میں اضافہ ہوا ہے تفصیلات کے مطابق حق دو تحریک بلوچستان کے مرکزی ماہی گیر رہنما عزیز اسماعیل اور دیگر کارکنان نے آج پسنی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حق دو تحریک پسنی کے کارکنان ناخدا عنایت بلوچ،ناخدا رزاق بلوچ،ناصر کلانچی اور ملا تاج محمد کلانچی کو فورسز نے نلینٹ کے مقام پر گرفتار کرکے لاپتہ کردیا تھا اور بعد میں تربت میں اُن کو منظرعام پر لاکر اُن پر گوادر میں جاں بحق پولیس اہلکار کے قتل کا مقدمہ درج کردیا اور اُن کے ساتھ حق دو تحریک کے دوسرے مرکزی رہنماؤں کو بھی اسی قتل کے مقدمے میں نامزد کردیا گیا جو کہ ایک طرح کا ظلم اور غیر آئینی عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ جس رات گوادر دھرنا پر پولیس گردی کی گئی میں بذات خود وہاں موجودتھا اور ہم نے گرفتاری بھی پیش کی لیکن گرفتار کرنے کے بجائے ہم پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہم پر جس طرح کا ظلم روا رکھا گیا اُسکی مثال تاریخ میں کہیں پر بھی نہیں ملتی لیکن ہم اس ظلم کا حساب آئینی اور قانونی طریقے سے لینگے اور عوامی طاقت کے ذریعے عوامی مطالبات کو سبوتاژ کرنے والوں کا حساب لینگے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر داخلہ آئے روز جھوٹ پر جھوٹ بول کر حق دو تحریک کے مظلوم کارکنان کو شر پسند ظاہر کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ عزیز اسماعیل نے بتایا کہ گوادر میں جاں بحق پولیس نوجوان کے قتل کی ہم پر زور مذمت کرتے ہیں اور اُنکی فیملی کے درد اور دکھ میں برابرکے شریک ہیں اور ہم وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قتل کے اس واقعہ کی پاک اور شفاف تحقیقات کی جائے اور جو لوگ بھی اس قتل میں ملوث ہوں اُنھیں سزا دی جائے لیکن انتظامیہ اس کے برعکس جھوٹے مقدمات کے زریعے غریب ماہی گیروں اور کارکنان پر قتل کا مقدمہ کرچکی ہے جو کہ ناجائز اور ظلم ہے۔انہوں نے کہا کہ جس دن پولیس اہلکار کے قتل کا واقعہ پیش آیا حق دو تحریک پسنی کے کارکنان پسنی میں موجود تھے اور پسنی کی انتظامیہ خود اس بات کی گواہ ہے اور کارکنان جس میں ایک کونسلر بھی شامل ہے تمام لوگوں کو نلینٹ کے مقام پر گرفتار کیا گیا اور قتل کے جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں سیاسی بنیادوں پر کارکنان کو ریمانڈ میں لیا جارہا ہے لیکن ہم آئینی اور قانونی طریقے سیعدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائینگے۔ انہوں نے کہا کہ قائد تحریک مولاناہدایت الرحمان عوام کے لیے لڑ رہے ہیں حق دو تحریک نے جو مطالبات پیش کیے ہیں وہ ہمارے ذاتی مطالبات نہیں ہیں بلکہ عوام اور ماہی گیروں کے مطالبات ہیں اور ہم اپنے آئینی مطالبات کے لیے آخری سانس تک لڑتے رہینگے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ابھی شوشہ پھیلا رہے ہیں کہ اب عوامینڈیٹ حق دو تحریک کے ساتھ نہیں ہیں جوکہ جھوٹ اور پروپیگنڈہ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اور ہم عنقریب عوام کے ساتھ مل کر ایک اعظیم الشان ریلی نکال لینگے۔انہوں نے کہاکہ حق دو تحریک کے مطالبات اگر غیر آئینی اور غیرقانونی ہوتے تو وزیراعلی اور وزیرداخلہ خود اُنھیں جائز کیسے قرار دیتے اور ابھی ماہی گیروں کو لیبر کا درجہ دیا گیا ہے یہ مطالبہ حق دو تحریک کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل ہے۔ عزیز اسماعیل نے بتایا کہ حق دوتحریک کے مظلوم کارکنان پر تشدد اور لاٹھی چارج کرکے ٹرالر مافیا کی راہ کو ہموار کیاگیا کارکنان کی گرفتاری کے بعد ٹرالر مافیا نے ایک بار پھر پسنی چربندن کلمت اور گوادر کے سمندر کا رُخ کیا ہے اور آج سینکڑوں کی تعداد میں ٹرالر کلمت کے ساحل پر غیرقانونی ٹرالنگ میں مصروف ہیں اور ڈی جی فشریز کا یہ بیان کہ غیرقانونی ٹرالنگ میں نوے فیصد کمی آئی ہے جھوٹ کا پلندہ ہے۔انہوں نے کہا 12 ناٹیکل میل کے اندر فشنگ مقامی لوگوں کا آئینی اور قانونی حق ہے جہاں میں کسی بھی غیر صوبائی ٹرالر کو فشنگ کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتے اور اگر حکومت نے ہمارے مطالبات نہیں مانے تو ہم اپنا آئندہ کا لائحہ عمل طے کرینگے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ماہی گیروں اور کارکنان پر قتل کے ناجائز مقدمات کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں