نقیب اللہ کا خون رائیگاں نہیں جائیگا، شہریوں کا ماورائے عدالت قتل بند کیا جائے، کراچی میں مظاہرہ
کراچی (این این آئی) نقیب اللہ محسود کے بہمیانہ قتل میں ملوث پولیس اہلکاروں کی بربریت کے خلاف نوجوانوں کی تنظیم "آلٹرنیٹ” کے زیر اہتمام ایک احتجاجی مظاہرہ کراچی پریس کلب پر منعقد کیا گیا۔جس کی قیادت آلٹرنیٹ گروپ کے عاقب حسین اور شہزاد مغل کررہے تھے۔ مظاہرے میں نوجوانوں کی بڑی تعداد کے علاوہ سیاسی،سماجی اور صحافی تنظیموں کے نمائندے نے شرکت کی۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ہوئے آلٹرنیٹ گروپ کے عاقب حسین نے کہا کہ نقیب اللہ محسود کے قاتلوں کی رہائی یہ ثابت کرتی ہے کہ پاکستان مکمل طور پر ایک پولیس اسٹیٹ میں تبدیل ہوچکا ہے۔قانون نافذ کرنے والے ادارے خصوصا پولیس شہریوں کو تحفظ کرنے کے بجائے انہیں ماروائے عدالت اغوا کرتی ہے۔یا بھتہ خوری کرتی ہے۔ حتیٰ کہ ان کا خون بہانے سے بھی دریخ نہیں کرتی ہے۔آج سے پانچ سال پہلے نقیب اللہ محسود کو اور ان کے دو دوستوں سمیت سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکاروں نے را انوار کے حکم پر اغوا کیا۔اور تھانے لے جا کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔اور بھتہ نہ ملنے پر جان سے مارنے کی دھمکی دی اور اسی تشدد کی بنا پر نوجوان نقیب اللہ جانبحق ہوگیا۔اور اس کی لانعش کو کراچی کے علاقے عثمان خاص خیلی گوٹ کے قریب فارم ہاوس میں پھینک دیا گیا۔اور یہ بیان جاری کیا گیا کہ یہ تخریب کار تھا۔اس کا تعلق ٹی ٹی پی اور لشکر جھنگوی سے بتایا گیا۔لیکن عدالت نے 2019 میں نقیب اللہ محسود کو بے گناہ اور معصوم شہری قرار دیا۔آلٹرنیٹ گروپ کے شہزاد مغل نے کہا کہ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نقیب اللہ اپنے خاندان کے ساتھ وزیرستان میں ہونے والے آپریشن میں تخریب کاروں اور ریاستی اداروں کے خوف سے کراچی آگیا تھا۔اس کا کسی سیاسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔اور عام نوجوانوں کی طرح شوشل میڈیا پر مختلف طریقوں سے اظہار کرتا تھا۔پولیس نے اپنے پیٹی بند بھائیوں کو بچانے کے لیے نہ صرف عدالتوں کو گمراہ کیا۔بلکہ پورے سماج کو اس نتیجے پر پہچنے پر مجبور کیا کہ پولیس اور تھانے جرائم کے گڑھ اور شہریوں کے لیے مذبح خانے بن چکے ہیں۔پانچ برس پہلے ہونے والے اس بیہمانہ قتل نے اس بات کو بھی روز روشن کی طرح عیاں کردی ہے کہ قانون طاقتور کے لیے موم کے گڑیا کی طرح ہے۔اور جرائم میں ملوث طاقت ور افراد یا گروہ کو ان کے جرائم پر کوئی بھی عدالت سزا نہں سنا سکتی ہے۔را انوار جیسے بدنام زمانہ انسانی حقوق دشمن پولیس آفیسر کے پشت پر تمام طاقتور قوتیں کھڑی ہے۔اور اس کو معصوم ثابت کر رہی ہے.بدقسمتی سے حالیہ عدالتی فیصلے پر تمام نسلی مذہبی اور جمعوریت کا نام لینے والی نام نہاد سیاسی جماعتوں کی مجرمانہ خاموشی اس عمل کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ نقیب اللہ اور ان جیسے آئے روز ہونے والے ماروائے عدالت کے واقعات میں ملوث گروہ اور پولیس اہلکار کو سیاسی قوتوں کی پست پناہی حاصل ہے۔سابقہ چیف آف آرمی اسٹاف قمر جاوید باجوہ نے شہید کے باپ سے وعدہ کیا تھا کہ ان کے ساتھ انصاف ہوگا۔مگر جب نقیب کے مقابلے میں را انوار آیا تو انصاف کا پلڑا ہلکا پڑ گیا نوجوان نقیب اللہ کا خون رائیگا نہیں جانے دینگے۔اس کے قتل میں ملوث تمام عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کرینگے۔


