معاشی بد حالی کے خاتمہ کیلئے سنجیدگی سے سوچنا ہوگا ‘ مولانا شیرانی
جہانیاں:اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین اورجمعیت علمائے اسلام کے سینئر رہنما مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی بدحالی کے خاتمہ کےلئے ہمیں ایک قوم بن کر سنجیدگی سے سوچنا ہو گا،تحریک انصاف کا کوئی نظریہ نہیں ہے قوم غلامی سے نجات کے نعرے کی وجہ سے عمران خان کے ساتھ ہیں،قوم کو غلامی سے نجات کیلئے دوغلہ پن ختم کرنا ہوگا۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار جہانیاں میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مغرب کی جاگیر بنا ہوا ہے اور پاکستان میں معاشی بدحالی کی وجہ بھی یہی ہے کیونکہ کوئی جاگیردار نہیں چاہتا کہ اس کا مزارعہ اپنے پا¶ں پر کھڑا ہوسکے جو با اختیار ہو وہ اپنے پا¶ں پر کھڑا ہوتا ہے ہماری اسٹیبلشمنٹ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے تابع ہے اور ہماری خدمت کے لیے نہیں بلکہ مغربی مفادات کی حفاظت اور مقاصد کی وکالت کے لیے ہے۔اراکین پارلیمنٹ غیر ملکی آقا¶ں کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کی جماعت کا کوئی سیاسی نظریہ نہیں قوم اس کے ساتھ اس لیے کھڑی ہے کیونکہ عمران خان نے غلامی سے چھٹکارے کی بات کی پاکستانی قوم بیرونی مداخلت اور غلامی سے نجات چاہتی ہے بیرونی طاقتوں کا ہاتھ پی ڈی ایم پر ہے اس کا اظہار پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں اس انداز میں کر چکی ہیں کہ ہم امریکہ کے وینٹی لیٹر پر ہیں یعنی ہماری موت و حیات کا مالک امریکہ ہے کچھ کہتے ہیں کہ ہم بھکاری ہیں اور بھکاری کی اپنی کوئی چوائس نہیں ہوتی بعض کہتے ہیں کہ ہمیں چھینک مارنے کے لیے بھی آئی ایم ایف سے اجازت لینا پڑتی ہے دوسری جانب وہ طبقہ ہے جو نچلا طبقہ ہے مگر جذبے کے حوالے سے جوان طبقہ ہے وہ کہتا ہے کہ غلامی کی کوئی حد ہونی چاہیے کم ازکم ہمیں سانس لینے کا حق ہونا چاہیے وہ عمران خان کے ساتھ ہے۔بہر حال غلامی کی زنجیریں توڑنا پڑیں گی ہمیں ایک قوم بن کرسنجیدگی سے سوچنا ہوگا اور پاکستان کی خوشحالی اور حقیقی ازادی اداروں کے غیر ضروری کردار کے خاتمہ سے بھی مشروط ہے۔


