بلوچستان حکومت کے ذمے زرعی سبسڈی کی مد میں 44 ارب روپے ادا کیے جائیں، کیسکو

کوئٹہ :کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی(کیسکو) صوبہ بھرمیں برقی نظام کی ترقی وتوسیع اوربجلی فراہمی کےلئے ہمہ وقت کوشاں ہے البتہ زرعی صارفین کی جانب سے بلوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے کیسکو کے لیئے مالی مسائل پیدا ہو رہے ہیں جسکی وجہ سے زرعی صارفین کے بقایا جات میں دن بدن تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس وقت زرعی سبسڈی کی مدمیں صوبائی حکومت کے زمہ تقریباً44ارب روپے جبکہ وفاقی حکومت کے ذمہ زرعی سبسڈی کی مدمیں 26ارب روپے واجب الاداہےں جبکہ زرعی صارفین کے ذمہ بلوں کی مدمیں بقایاجات تقریباً383ارب روپے واجب الاداہے ۔علاوہ ازیں بعض زرعی صارفین کی جانب سے ازخوداورغیرقانونی طورپرٹیوب ویل کنکشن نصب کئے گئے ہیںجس کے باعث کیسکوگرڈسسٹم نیٹ ورک پربے تحاشا لوڈکادباﺅ ہے جس سے نہ صرف قیمتی تنصیبات کونقصان پہنچنے کااندیشہ ہے بلکہ غیرقانونی بجلی استعمال کرنے کی وجہ سے ماہانہ کروڑوں روپے ریونیوکی مدمیں نقصان کاسامنارہتاہے۔لہٰذکیسکواپیل کرتی ہے کہ جنہوںنے غیرقانونی ٹیوب ویل نصب کرکے غیر قانونی طریقے سے بجلی حاصل کی ہیں وہ فوری طورپر اپنے خود ساختہ غیرقانونی کنکشنز ہٹادیں اسکے ساتھ ساتھ وہ اپنے بجلی کے واجبات جمع کرانے کے علاوہ بقایاجات بھی فوری طورپرجمع کرائیںبصورت دیگر کیسکوکی ٹیمیں کارروائی کرکے اُن کے برقی کنکشنز منقطع کرےے گی اور بجلی منقطع ہونے پرکیسکوکسی بھی صارف کے نقصان یا زحمت کی ذمہ دار نہیں ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں