آئی ایم ایف سے انتہائی مشکل شرائط پر قرض لینا عوام کوزندہ درگور کرنے کے مترادف ہے، پشتونخوا میپ

کوئٹہ :پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں ملک کے سنگین ترین معاشی بحران اور آئی ایم ایف کے انتہائی مشکل شرائط پر قرضہ لینے کا راستہ ملک کے عوام کی خودکشی کے مترادف قرار دیتے ہوئے اس پر انتہائی دکھ اورافسوس کا اظہار کیا گیا ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات اور متعدد اشیاءضروریات کے نرخ بڑھانے سے عوام کی زندگی اور قوت خرید ختم ہوچکی ہے اچھے بھلے خوشحال خاندان نان شبینہ کے محتاج بنتے جارہے ہیں ، غریبوں کی بھوک افلاس محرومی اور لاچاری بربادی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دنیا نئی نئی ایجادات کی راہ پر گامزن ہے لیکن ہمارے ہاں لیڈر اورجماعتیں تخلیق کیئے جاتے ہیں اور شروع سے اب تک ملک کو مسلسل تجربہ گاہ بنایا جاتارہا ہے ۔ آئین ساز اسمبلی کے تشکیل کردہ آئین سے انکار اور ملک کے مستقبل سے کھیلنے کی نام نہاد ون یونٹ اور من پسند کے 1956کا آئین اور 1958ءکار مارشل لاءاور اس کے بعد فوجی اور سویلین سٹیبلشمنٹ کی گٹھ جوڑ سے عوام کی امانت اقتدار پر قبضہ کی غیر آئینی اور غیر قانونی قبضہ کیلئے ملک کے عدلیہ ، بعض نام نہاد سیاسی افراد واشخاص اور چند بے ضمیرلوگوں سے حمایت حاصل کرنے کا غیر دستوری عمل جاری چلا آیا ہے۔ صرف یہی نہیں سٹیبلشمنٹ ڈائریکٹ پارٹی بنانے کے سیاسی عمل میں مکمل طور پر حصہ دار بننے اور اس طرح ملکی آئین پائمالی کرتے رہے ۔ ملک کو صحیح خطوط پر چلانے کیلئے عوام کے نمائندے اور حقیقی جمہوری سیاسی لیڈر شپ پس زندان رکھنے یا من پسند کے نتیجے کے الیکشن کا انعقادکرتے رہے جو ہماری بربادیوں کا اصل سبب ہیں۔ آج زرعی ، صنعتی اور معدنی پیداوار آدھے سے زیادہ گھٹ گئی ہے پیداوار میں مسلسل کمی سے ملکی معیشت کا بھتہ بیٹھ گیا ہے اور ساتھ ہی آج ملک کو عالمی تنہائی کا سامنا ہے اور ملک پر جو الزامات ہیں ان کاازالہ کرنا ضروری ہے ۔ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کیلئے ضروری ہے کہ پیداوار بڑھائی جائے جس سے بیروزگاری اور مہنگائی کم ہوجائیگی ۔زرعی ، صنعتی ، معدنی اور دیگر پیداواری ذرائع کے از سر نو منصوبہ بندی ضروری ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے خسارے کے اداروں کیلئے منصوبہ بندیضروری ہے ،تمام ملک اور صوبوں میں سرکاری ملازمین کو عوام کی خدمت پر مامور کرنے اور رشوت خوری ،بے لگام کرپشن کا خاتمہ اور ملکی آئین کے تحت تشکیل کردہ ہر ادارے کو اپنے آئینی ادارتی اختیار کا پابند بنانا ہوگا ۔ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو رواج دینا ہوگا۔ شفاف غیر جانبدارانہ انتخابات جس میں من پسند نتیجے کی ترجیح شامل نہ ہوکے ذریعے عوام کے منتخب پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ تسلیم کرنا ہوگا۔ اور ملک کو قوموں کی برابری کا حقیقی فیڈریشن بنانااور قوموں کے اختیار کو تسلیم کرنا ، قوموں کی قومی زبانوں ان کے ثقافت ، تہذیب وتمدن کو فروغ دیناہوگااور ملک کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے تمام سٹیک ہولڈر پر مشتمل کانفرنس کا انعقاد ضروری ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں