جام کمال نے جنوبی اضلاع کے نام پر 6کھرب روپے بلوچ علاقوں کیلئے منظور کرکے پشتونوں علاقوں کو محروم رکھا، ایاز جوگیزئی

سبی (آن لائن) پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع سبی کانفرنس پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب ایاز خان جوگیزئی کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ کانفرنس نے ضلعی انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کی منظوری دی ، الیکشن کمیشن نے 31رکنی ایگزیکٹو کی تجاویز پیش کی اور کانفرنس نے اتفاق رائے سے اسکی منظوری دی ۔جس کے مطابق ڈاکٹر نور احمد شاہ خجک ضلع سیکرٹری،ملک فقیر محمد مرغزانی سینئر معاون سیکرٹری ودیگر 29اراکین معاونین منتخب ہوئے ۔ پارٹی کے مرکی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال نے منتخب ایگزیکٹوز سے حلف لیااور انہیں مبارکباد پیش کی ۔ضلعی کانفرنس سے نواب ایاز خان جوگیزئی ، عبدالرحیم زیارتوال ، نور احمد شاہ خجک ، خدا بخش ، سرور مرغزانی ، عمران سیلاچی ، داد محمد مرغزانی ، عالم خان مرغزانی ، جمعہ خان خجک ، عبدالباری ، عبدالغفور خجک، غفار لونی اور غازی خان نے خطاب کیا ۔ مقررین نے کہا کہ انگریزوںکی ہندوستان پر قبضے کے بعد افغانستان کو زیر کرنے کی ٹھان لی اگر چہ تین جنگوں میں افغانوں نے انہیں شکست فاش دی لیکن اس دوران انگریز افغان سرزمین کو قبضہ کرتے رہے اورانگریزوں کے قبضے کے روایات کے برخلاف افغان مقبوضہ سرزمین کو غلط اور گمراہ کن ناموں سے موسوم کرتے رہے ، اس طرح گندھمک کے معاہدے میں چھینے گئے پشتو ن سرزمین جو اس وقت سبی کہلاتا تھا اور سبی ضلع پر مشتمل تھا ( ہرنائی ، شاہرگ ، کچھ ، کواس ،زیارت ، سنجاوی ، دکی اور تل چٹیالی)اس طرح برٹش بلوچستان 95فیصد آبادی پشتونوں کی تھی اور خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی انگریزوں کے مقبوضہ چیف کمشنر صوبہ کو گورنر کا صوبہ بنانے کیلئے تگ ودو کرتے رہے اور پاکستان تشکیل کے بعد خان شہید نے 23مارچ 1940قرار داد پاکستان کے تحت پشتون متحدہ صوبہ پشتونستان کے نام سے تشکیل کا مطالبہ کیا تھا ہمارا چیف کمشنر صوبہ ون یونٹ میں شامل کیا گیا تھا اور ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد پشتون چیف کمشنر صوبہ غائب ہوا اور اس طرح پشتون وحدت اور صوبہ پشتونستان نہیں بن سکا ۔ اور آج ایک مرتبہ پھر خیبر پشتونخوا صوبے کو مزید تقسیم کرنے غیر دانشمندانہ بیانات جاری ہورہے ہیں اور ہم بحیثیت قوم پشتونوں کے تقسیم کی بجائے ان کی ملی وحدت ، ملی تشخص اور اپنے قومی وسائل پر اختیار کے مطالبات پر قائم ہیںاور ملک میں پشتون قوم کی وحدت دینا اور تسلیم کرنا ہوگا۔ مقررین نے کہاکہ انگریزوں کو زیر کرنے میں ہماری قوم کی کردار سب سے نمایاں تھا لیکن ملک کے قیام کے بعد یکے بعد دیگر پشتون قومی وسائل پر قبضہ گری جاری رہی ایک جانب پاکستان کی ریاستی استعماری پالیسی کے تحت پشتونوں کی پانی ، بجلی ، گیس ، تیل اور تمام معدنی خزانوں پر قبضہ گیری اور اس صوبے میں سیاسی اختیار اور انتظام میں ہماری مردم شماری جو ریکارڈ پرموجود ہیں اور اضلاع کی تشکیل قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی ناروا غیر حقیقی تشکیل کی وجہ سے ہم بہت سے علاقوں میں حق نمائندگی سے محروم ہیں ۔ کوئٹہ شہر کی غیر حقیقی حلقہ بندیاں اور حالیہ غیر حقیقی حلقے جس میں باآسانی انسان سمجھ سکتا ہے ، ایک لاکھ 23ہزار پر آواران کا حلقہ اور ایک لاکھ ستاسٹھ (67)ہزار پر موسیٰ خیل کا حلقہ ختم کرنا خالص انتظامی بدنیتی اور تعصب کے سوا کچھ نہیں ۔ پشتونوں کا کوئلہ ، کرومائیٹ، تابنا ،سونا ، سنگ مرر ، زمرود ، قیمتی جنگلات اور چراگاہوں پر قبضہ جاری ہیں ، سبی ہرنائی ریلوے ٹریک جو کہ 2018میں مکمل ہونا تھا 2ارب سے زیادہ رقم کی ادائیگی کے باوجود آج تک یہ نہ مکمل ہوا نہ ٹرین چلنا شروع ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سبی کے نام یونیورسٹی منظور کی لیکن اس تعصب کی بنیاد پر غلط نام سے لکھا گیا ،لہڑی تحصیل اسمبلی کے فیصلے کے باوجود آج تک سبی کی صوبائی اسمبلی نمائندگی قبضہ کرنے کیلئے سبی پر مسلط ہی اور سبی کے لوگ تمام شعبہ جات میں سب کچھ سے محروم ہیں۔ مقررین نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کے خاتمے کیلئے ہم نے قربانیاں دی اور جمہوریت اور جمہوری روایات کے فروغ کیلئے کام کیا ہے لیکن مسلط غلط پالیسیوں کے نتیجے میں مسلط سابق وزیر اعلیٰ جام کمال نے جنوبی اضلاع کے نام پرمرکز سے 6کھرب روپے بلوچ علاقوں کیلئے منظورکرکے پشتون علاقوں کو مکمل محروم کیا گیا اس طرح صوبے میں زندگی کے ہر شعبے میں پشتونوں کو محرومیوں کا سامنا ہے اور صرف یہی نہیں تمام ملک میں پشتونوں کو سرمال کی حفاظت نہیں ہے ، ملکی آئین کے تحت پاکستان کا کوئی بھی باشندہ ملک کے کسی بھی حصے میں گھر ، کاروباراوربودوباش اختیار کرسکتا ہے اور ملکی آئین کے تحت حاصل حق کی بدترین خلاف ورزی جاری ہے ۔ مقررین نے کہاکہ ہم جمہوری لوگ ہیں اور ہم نے آمریت کے خلاف جمہوریت کیلئے قربانیاں دی ہیں لیکن ملک کو صحیح خطوط پر نہ چلانے کی روش جاری رہی اس وقت پارٹی نے ملک کے جمہوری قوتوں کے فیصلے پر آمر ایوب خان کیخلاف مادر ملت کا ساتھ دیا تھا ، جمہوریت کے ساتھ جاری مذاق کے نتیجے میں اس وقت ملک معاشی طور پر دیوالیہ ہوچکا ہے ، ملک میں جتنا قرضہ لیا گیا اس وہ ہمارے صوبے اور خصوصاً پشتون اضلاع پر خرچ نہیں ہوا اور مہنگائی ، بیروزگاری کی سزا ہم بھگت رہے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ سبی کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ، سبی ہمارے اکابرین کے جرگوں کا مرکز تھا آج ویرانے کی تصویر پیش کررہا ہے اور مسلط لوگ غریب صوبے کے عوام کی دولت کے بندربانٹ میں مصروف ہیں سبی کے عوام کی نمائندگی چھین کر اس پر لہڑی کے نمائندے کو مسلط کرنا ہمیں قابل قبول نہیں۔ مقررین نے کہا کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کیلئے آئی ایم ایف کے شرائط کے ساتھ ساتھ جن سرکاری عہدیداروں اور سرمایہ کاروں اور سیاسی لیڈر شپ کے باہر پڑی ہوئی دولت کو لانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک آئین پاکستان پر عملدرآمد نہیں ہوگا اور ملک کے تمام ادارے اپنے آئینی اختیار کے پابند نہیں ہونگے اس وقت تک ملک میں سدھار ناممکن ہے ۔ معاشی بحران کی سنگینی جو افرا تفری پر منتج ہوگی اس کو روکنے اوراس کی منصوبہ بندی انتہائی لازمی ہے ۔ اس موقع پر پارٹی کے صوبائی سیکرٹری کبیر افغان ، صوبائی ڈپٹی سیکرٹریز حبیب الرحمن بازئی ، ملک عمر کاکڑ ، نظام عسکرسمیت پارٹی کے دیگر رہنماﺅں نے بھی شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں