ایرانی تیل کا کاروبار کرنیوالوں نے راتوں رات اربوں روپے کمالئے

حب(نمائندہ انتخاب)آئی ایم ایف قرض کی کڑی شرائط اور حکومت کے170ارب روپے کے ٹیکسسز کے منی بجٹ بم نے پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو آخری سسکیاں لینے پر مجبور کردیا روز مرہ کھانے پینے اور استعمال کی ضروری اشیاءکی قیمتیں تاریخ کے بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں ،پیٹرول پونے تین سوروپے فی لیٹر ہونے کے بعد بلوچستان میں ایرانی تیل کے نرخ بھی بڑھادیئے گئے لاکھوں گیلن ایرانی پیٹرول اور ڈیزل ذخیرہ کر کے رکھنے والوں نے راتوں رات اربوں روپے کا ہاتھ مار لیا ایرانی پیٹرول260سے265روپے فی لیٹر فروخت ہونے لگا گوشت مچھلی تودرکنار اب سبزیاں بھی عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہو گئیں آٹے اور چاول گھی شکر دودھ دہی خریدنا مشکل ہو گیا ہوٹلوں پر چائے کپ 60سے70عام ہوٹل جبکہ ماربل ٹائلز گلاس ڈور والے ہوٹلوں پر چائے فی کپ 100روپے سے زائد قیمت پر فروخت ہو رہا ہے مزدوروں کے شہر حب میں انتظامیہ کی طرف سے قیمتوں پر قابو پانا مشکل ہو گیا کراچی سے حب آٹا اور گندم کی ضلع بندی کے تحت پابندی کی وجہ سے تاجروں کو آٹا حب لانے میں مشکلات کا سامنا چیک پوسٹوں پر بھاری رشوت دینے کے بعد حب پہنچائے جانے والے آٹے کی من مانے نرخوں پر فروخت کی جارہی ہے اس حوالے سے گزشتہ روز ایک محتاط سروے کے دوران محنت مشقت کرنے والے شہریوں کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی مہنگائی اپنی بلند ترین سطح پر ہے لیکن آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے عوض 170ارب کے ٹیکسسز پر مشتمل منی بجٹ نے عام آدمی کی زندگی کو انتہائی مشکل میں ڈال دیا ہے بلوچستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر حب جو کہ مزدورو ں کا شہر کہلاتا ہے لیکن محنت کشوں کے شہر میں اشیائے خوردونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاءکی قیمتیں کراچی اور اسلام آباد کے ہائی فائی پوش علاقوں اور بڑے بڑے شاپنگ مالز میں فروخت کی جانے والی اشیاءکی قیمتوں کے برابر ہیں پاکستانی کمپنیوں کے پیٹرول کی قیمت پونے تین سو روپے لیٹر مقرر ہونے کے بعد یہاں پر ایرانی تیل کے بیوپاریوں نے بھی من مانی کرتے ہوئے فی لیٹر میں 25روپے اضافہ کردیا ہے جسکی وجہ سے عام آدمی اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں میں ایرانی تیل کا استعمال کر کے روزگار کےلئے نکلتے تھے اب وہ بھی انکی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے شہریوں کا کہنا تھا کہ مہنگائی تو روزبروز اضافہ ہو رہا ہے لیکن اُجرت نہیں بڑھ رہی بلکہ روزگار کے ذرائع اور مواقع محدود ہوتے جارہے ہیں سرکاری نوکریاں بڑی سفارش اور بھاری نذرانے کے عوض فروخت ہو رہی ہیں جس سے ایک عام آدمی جسکے پاس نہ تو کوئی بڑی تگڑی سفارش ہے اور نہ ہی سرکاری ملازمت خریدنے کےلئے اتنی بڑی رقم دستیاب ہے وہ پرائیوٹ سیکٹرمیں بھی استحصالی ٹولے کے ہاتھوں یر غمال ہے اسکے لئے خود اور اپنے کنبے کی کفالت کافی مشکل ہو گئی ہے شہریوں کا کہنا تھا کہ پیٹرول ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے کے بعد نہ صرف تمام خوردونی اشیاءکافی مہنگی کردی گئی ہیں بلکہ مسافر بردار گاڑیوں کے کرایوں میں اضافے سے اب عام آدمی کا پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے سفر کرنا بھی محال ہو چکا ہے حب شہر میں حالیہ دنوں پانی بجلی اور گیس کا مصنوعی بحران ہے جبکہ مہنگائی بڑھنے کے ساتھ ہی پرائیوٹ جنریٹر مالکان نے ماہوار بلز بڑھادیئے ہیں تو دوسری طرف گیس سلنڈر کی دکانوں پر LPGکے نرخ بھی بڑھ گئے ہیں جبکہ واٹر ٹینکر مافیا بھی منہ مانگے داموں شہرمیں پانی فروخت کر رہے ہیں حب کہلاتا تو محنت کشوں کا شہر ہے لیکن مہنگائی نے اب محنت کشوں کو دووقت کی روٹی سے بھی دور کر کے رکھ دیا ہے شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ ان حالات میں حب کی ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے اور معاشرتی برائیوں کے جنم لینے کے عوامل کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ۔تربت( بیورورپورٹ) پاکستانی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد تربت میں ایرانی پٹرول کی قیمتوں میں حیران کن اضافہ ، جمعہ کو تربت میں فی لیٹر 250 سے 270 تک ہوگیا، تربت میں جمعرات اور جمعہ کو ایرانی پٹرول کی فی لیٹر قیمت 250 اور 270 تک ہوگئی ہے، ایران سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق فی لیٹر قیمت 12 سے 13 پاکستانی روپے مقرر ہے لیکن حیران کن طور پر تربت جو ایرانی سرحد سے بامشکل 100 کلومیٹر پڑسکتی ہے یہاں ایرانی پٹرول آکر 270 فی لیٹر فروخت کی جاتی ہے جو کئی سو گنا اضافہ ہے، تیل بردار گاڈی مالکان کے مطابق اس وقت ضلع کیچ میں ٹوکن کی قیمت 2 لاکھ 50 ہزار روپے کے لگ بھگ ہے جبکہ مختلف مقامات پر بھتہ اس کے علاوہ ہے اس وجہ سے مجبوراً گاڑی مالکان ڈپو والوں کو مہنگا پٹرول دیتے ہیں ایک گاڑی ڈرائیور کے مطابق ڈپو مالکان اور دکان دار زیادہ فائدہ لینے کے چکر میں خود قیمت مقرر کرتے ہیں حالانکہ انہیں اس سے بہت کم قیمت پر فی لیٹر پٹرول پڑ رہا ہے لیکن ان کے خلاف انتظامیہ کی ایکشن اور سیاسی جماعتوں کی خاموشی قیمتوں میں اضافہ کا بڑا سبب ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں