نیب کو ختم کریں ورنہ حکومت نہیں چلے گی، شاہد خاقان عباسی

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نیب کو ختم کیا جائے ورنہ حکومت نہیں چلے گی۔میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بدقسمتی ہے3جمہوری حکومتیں گزرنےکےباوجودیہ ادارہ قائم ہے۔ نیب پاکستان کاسب سےکرپٹ اورمعاملات خراب کرنےوالاادارہ ہے۔ جب کوئی حکومت فیصلہ نہ کرسکےتوملکی معاملات نہیں چل سکتے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں دہشت گردی کا بہت بڑا واقعہ پیش آیا، ایک ایسا وقت بھی آیا تھا کہ دہشتگردی کے واقعات ختم ہوگئے تھے، اب دوبارہ دہشتگردی اور اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کی بدحالی کی سب سے بڑی وجہ نیب کا ادارہ بن گیا ہے۔ جو ظلم نیب کے ادارے نے کیا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ نیب سب اداروں کا نظام خراب کرنے والا ادارہ بن گیا ہے۔ معیشت میں بہتری نہ آنے کی ایک وجہ نیب کا ڈر ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سے گزارش کروں گا کہ وہ نیب کے ادارے کو ختم کریں۔ میں اور میرے وکیل بھی 23 سالوں سے نیب کی عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں۔ جو لوگ اس ملک کی خدمت کرتے رہے ہیں آج وہ عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ کبھی کیس میں کوئی نہیں آتا تو کبھی کوئی نہیں آتا۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جب تک جاوید اقبال کا احتساب نہیں ہوتا اس وقت تک کچھ اچھا نہیں ہوسکتا۔ اب بات انتہا کو پہنچ گئی ہے ملک میں حالات انتہائی خراب ہیں۔ ملک کے معاملات میں کسی بھی غیر آئینی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ میں نے اگر ن لیگ کو چھوڑا تو میں پھر گھر ہی جاؤں گا۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں نے کئی برس تک پارٹی میں کوئی بھی عہدہ نہیں رکھا تھا۔ میں اپنی جماعت کے ساتھ ہوں، میرے لیڈر نواز شریف ہیں۔ میرے مریم نواز سے کوئی تحفظات نہیں ہیں۔ ملاقات کے دوران انہیں اپنے تجربے سے مشورے دیے۔انہوں نے مزید کہا کہ انصاف کے بھی دہرے معیار ہیں۔ بار بار ایسا دیکھا گیا ہے۔ ہمیں کسی قانون کا سہارا نہیں چاہیے۔ ہمارے خلاف کیس چلایا جائے۔ جس آئی جی نے کراچی میں امن قائم کیا وہ بھی 7 سالوں سے عدالتوں میں دھکے کھا رہا ہے۔قبل ازیں احتساب عدالت میں پی ایس او میں غیرقانونی بھرتیوں سے متعلق ریفرنس کی سماعت ہوئی، جس میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر پیش ہوئے۔ عدالت نے سماعت 17 مارچ تک ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں