جنرل (ر) فیض حمید ٹی ٹی پی کو واپس پاکستان لانا چاہتے تھے، ریاض پیرزادہ

اسلام آباد (صباح نیوز) وفاقی وزیر انسانی حقوق ریاض پیرزادہ نے کہا ہے کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر)فیض حمید کالعدم (ٹی ٹی پی)کو واپس پاکستان لانا چاہتے تھے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ریاض پیرزادہ نے کہا کہ ایک ان کیمرہ اجلاس میں کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کو پاکستان لایا جائے اور یہ تجویز جنرل (ر)فیض حمید نے دی تھی ، اس وقت جنرل (ر)فیض نے تجویز دی تھی کہ کالعدم ٹی ٹی پی کو مرکزی دھارے میں لایا جائے لیکن وہ بیک فائر کر گئے۔انہوںنے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اور صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف نے اس پر بات کی اور کہا تھا کہ ٹی ٹی پی کے ہاتھوں بینظیر بھٹو سمیت ہمارے کافی معتبر رہنما جاں بحق ہوئے ہیں۔ وزیر انسانی حقوق نے کہا کہ سابق آرمی چیف پر آرٹیکل 6 نہیں لگنا چاہیے کیوں کہ اگر یہ لگا تو دنیا کو کیا دکھائیں گے کہ پاکستان کا آرمی چیف بھی ملک دشمن ہوسکتا ہے۔ ریاض پیرزادہ نے سے سوال کیا گیا کہ ایف نائن پارک جیسے واقعات سے بچنے کے لئے کیا اقدامات ہونے چاہئیں؟ جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان واقعات سے بچنے کے لئے تو سب سے پہلے ہمارے گھروں کی اچھی تربیت ضروری ہے، اچھی مائیں اچھی تربیت کریں، رات کو بچوں کے باہر جانے سے متعلق ہماری حدود ہیں۔ا نہوںنے کہا کہ لڑکیاں تو دور لڑکوں سے بھی ڈکیتیاں ہوجاتی ہیں، جرائم پیشہ لوگ تو پھر رہے ہوتے ہیں، کہیں پر درندگی تو کہیں پر غربت حاوی ہوجاتی ہے۔وزیر انسانی حقوق نے کہا کہ اس طرح کے واقعات سے لوگوں کو خود بچنا چاہیے، جیسے ڈرائیونگ کے دوران کہتے ہیں کہ اپنی حفاظت خود ہی کرو، راہ چلتے ہوئے بھی اگر آپ غلط چلیں تو حادثات ہوتے ہیں۔ لاپتا افراد کے معاملے پر ریاض پیرزادہ نے کہا کہ استعمال ہونے والے کچھ لوگوں کو استعمال کرنے والے ہی غائب کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ پہاڑوں میں چلے جاتے ہیں یا دوسرے ملک چلے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے یہ لاپتا افراد ہیں، جب تک امن و امان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا لاپتا افراد کا معاملہ حل نہیں ہوگا۔انہوںنے کہا کہ لاپتاافراد کے معاملے میں دونوں طرف سے کچھ ہے، لاپتا افراد سے متعلق فہرست اب تھوڑی سی باقی ہے۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ہجوم کے ہاتھوں لوگوں کے قتل میں پلانٹڈ لوگ ملوث ہوتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں