پاکستان میں بلوچ قوم کے جان و مال، عزتِ نفس کیلئے کوئی عدالت کوئی ادارہ نہیں، آل پارٹیز پنجگور

پنجگور (آن لائن) سانحہ بارکھان کے خلاف پنجگور میں اسٹوڈنٹس سول سوسائٹی کی جانب سے ایک احتجاجی ریلی و مظاہرہ کیا گیا جس پنجگور سے تعلق رکھنے والے سیاسی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی نیشنل پارٹی بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے رہنما نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی مذہبی جماعت جمعیت علمائے اسلام جماعت اسلامی و سماجی شخصیت کے ساتھ مختلف طبقہ فکر کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ہوئی تھیں مظاہرین پریس کلب کے سامنے جمع ہوکر وہاں سے نکل کر مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے خان محمد مری کو انصاف ماحل بلوچ کو بازیاب کرو کے نعرے لگاتے ہوئے جاوید چوک پر جمع ہوکر جلسے کی شکل اختیار کرلی احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں گراں ناز بی بی ماحل بلوچ و انکے بیٹیوں کی تصاویر انکی بازیابی کے ساتھ سردار عبدالرحمن کھیتران کے ضرب نما تصاویر بھی ہاتھ میں اٹھائے ہوئے تھے احتجاجی جلسے سے اسٹوڈنٹس فہد آصف آل پارٹیز کے چئیرمن و بی این پی کے مرکزی رہنما میر نزیر احمد جمعیت علمائے اسلام کے امیر حافظ محمد اعظم بلوچ بی این پی عوامی کے رہنما میر کفایت اللہ بلوچ جماعت اسلامی کے ضلعی امیر مفتی صفی اللہ سوشل ورکر عادل ارباب حق دو تحریک کے ملا فرہاد سول سوسائٹی کے صمد صادق نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے شامیر بلوچ نیاز اکبر خلیل نور ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج اگر عدالتیں و انصاف کے ادارے ہوتے تو بلوچستان میں ہر آئے روز ایسے واقعات رونما نہیں ہوتے دیگر مسائل کیلئے عدالتیں سوموٹو ایکشن لیا جاتا ہے لیکن ملک میں بلوچ قوم کی جان و مال عزتِ نفس کیلئے کوئی عدالت کوئی ادارہ نہیں ہے انہوں نے کہا ہے کہ بااثر شخصیت کچھ بھی کریں لوگوں کو قتل کریں یا انکے عزت سے کھیلیں انہیں مکمل آزادی حاصل ہے صرف اداروں میں ایک دو دن میں قانونی شوشہ ہوگی بعد میں سفاک قاتل مجرموں کو باعزت بری کیا جاتاہے جن کی کئی مثالیں موجود ہیں انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے دلوں میں عدالتوں کے انصاف دینےکا بھروسہ اٹھ چکا ہے کویٹہ میں سرے عام سب کے سامنے نشے میں مسرور صوبائی رکن اسمبلی اصغر اچکزئی نے ٹریفک سارجنٹ کو کچل دیا کیا ہوا سب کے سامنے ہے انہیں باعزت بھری کیا گیا ملک کا قانوں و آئین کی بوٹ صرف غریبوں کے گردان دبانے کیلئے ہے انہیں انصاف دلانے کیلئے نہیں ہے انصاف کے تقاضے پورے ہوتے تو آج گلی گلی بدامنی نہیں ہوتا انہوں نے کہا ہے آگر یہ واقع افغانستان میں ہوتا آج سردار کھیتران کو سرے عام پھانسی ہوتی لیکن ہم جس جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہیں یہاں جمہوریہ صرف غریب پر ہے انہوں نے کہا ہے کہ روز اول سے اس ملک میں بلوچ قوم کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں جس واقع کو سردار کا نام دیا جارہا ہے دراصل یہ سردار نہیں بلکہ اسکے پیچھے سرکار ہے بلوچستان میں حکومت سرداروں کی ہے اور سردار سرکار کے ہیں اگر صوبائی اسمبلی عوام کی ہوتی ان میں عوامی نمائندے ہوتے تو انہوں نے سردار کھیتران کو کب کا اسمبلی سے نکالتے لیکن افسوس سرکاری صوبائی اسمبلی سرکاری سردار کو قانونی تحفظ دے رہی ہے انہوں نے ماحل بلوچ کی گرفتاری کی بھی مزمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماحل بلوچ کسی مسلح تنظیم کسی مسلح جدوجہد کا کارکن نہیں ہے وہ اپنے دو معصوم بچوں کی کفالت کرنے والی ماں ہے انکو انکے دو معصوم بچوں کے سامنے تشدد کرکے گرفتار کرنے کا کیا تاثر جاتا ہے انہوں نے کہا ہے کہ ملک کے اداروں کو صرف بلوچ قومی کلچر کو تباہ کرنے کیلئے ایسے حربے حیلے استعمال کررہی ہے کہ ماحل بلوچ سے خود کش جیکٹ برآمد ہوئے ہیں ماحل بلوچ سے کوئی چیز برآمد نہیں ہوئی سب جھوٹ ہیں اس سے قبل انہوں نے ایک علمی ادارے میں دوران پڑھائی حفیظ بلوچ کو بھی گرفتار کرلیا ان پر بھی ناجائز من گھڑت کیس لگایا گیا کہ انکے پاس بارود برآمد ہوئی ہے انہوں نے کہا ہے کہ روزانہ مخلتف حربوں سے ادارے بلوچستان میں نفرتیں پھیلا رہے ہیں جیسے کسی صورت قبول نہیں کریں گے انہوں نے کہا ہے کہ پنجگور کی ابادی کو کم کرنے مردم و خانہ شماری کو متنازع بنانے کیلئے انٹرنیٹ موبائل ڈیٹا کو بزور بند کردئیے گئے ہیں کہ پنجگور کے حالات ٹھیک نہیں پنجگور کے حالات ٹھیک اداروں کی نیتیں ٹھیک نہیں ہیں اگر حالات کا موازنہ کیا جائے دیگر اضلاع کے حالات کے نسبت سے پنجگور کے حالات سے زیادہ تر خراب ہیں انہوں نے کہا ہے کہ صوبائی و وفاقی وزیرِ ایک انٹرنیٹ ڈیٹا بحال نہیں کرسکتے ان پر اعتماد کرنا اسٹوڈنٹس یہاں کے سادہ لوح عوام کی سب سے بڑی غلطی ہے اور آخر میں جلسے کے مقررین نے گراں ناز بی بی کو انصاف سردار عبدالرحمن کھیتران کو کھڑی سے کھڑی سزا دینےو ماحل بلوچ کی بازیابی کا مطالبہ کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں