ہرنائی میں مزدوروں کا قتل اور مشینری کو نذر آتش کرنا حکومتی ناکامی ہے، این ڈی ایم

کوئٹہ (آن لائن) نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے مرکزی بیان میں ضلع ہرنائی کے خوست میں ایک بار پھر بدترین تخریب کاری اور کول مائنز کے مزدوروں کو جاں بحق و زخمی کرنے اور مشینری کو جلاکر کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے کے سفاکانہ عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کی ذمہ دار حکومت،ایف سی اور خفیہ ایجنسیوں کو قراردیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز سرشام خوست میں ایف سی کے قلعوں اور مورچوں کے مابین قائم کول مائینز پر حملہ کرکے مزدوروں کو جاں بحق و زخمی کرنے اور کروڑوں روپے کی مشینری کو جلانے کا تخریبی اقدام کیاگیا اور ایف سی کی موجودگی میں یہ سفاکانہ عمل دو سے تین گھنٹے جاری رہا۔ بیان میں کہا گیا کہ مذکورہ واقعے سمیت ضلع ہرنائی میں کول مائینز پر تخریب کاری، بھتہ گیری کے واقعات ایف سی اور خفیہ ایجنسیوں کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں کیونکہ تمام کول مائینز ایریا، روڈز اور ضلع بھر پر ایف سی کا قبضہ ہے اور ضلعی انتظامیہ کو مفلوج بناکر اسے تمام معاملات سے بیدخل کیاگیا ہے۔ ضلع میں تمام شاہراہوں پر کوئلے سے لوڈ ٹرکوں کو وزن کرکے فی ٹن دو سو تیس روپے بھتہ زبردستی وصول کیا جارہا ہے اور اس کے علاوہ پرچیوں، ٹیلیفون کالز کے ذریعے مائینز مالکان اور ٹھیکیداروں کو دھمکیاں دیکر ہر ماہ کروڑوں روپے کا بھتہ نقد اور مختلف بینک اکاﺅنٹس کے ذریعے وصول کیا جارہا ہے اور بھتہ نہ دینے پر ٹھیکیداروں، مزدوروں کو قتل اور مشینری کو جلایا جاتا ہے جبکہ اس غیر آئینی و غیر قانونی اور غیر انسانی عمل سے وفاقی و صوبائی حکومت،ضلعی و صوبائی انتظامیہ اور حکومتی خفیہ اینجنسیاں بخوبی اگاہ ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ خالقداد بابر کے قتل اور ایف ائی ار میں نامزد افراد قانون کی گرفت سے آزاد ہے اور کمشنر کی سربراہی میں قائم کمیٹی کے فیصلوں اور سفارشات پر عمل نہیں کیا جارہا اور تمام عوامی آبادی ایف سی کے ذریعے تاحال یرغمال ہے۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ گزشتہ روز کے واقعے سمیت ضلع کی تشویشناک صورتحال اور بھتہ گیری پر جوڈیشل کمیشن بناکر ضلع کے عوام کو اس اذیت ناک صورتحال سے نجات دلائی جائے، خالقداد بابر سمیت مزدوروں اور ٹھیکیداروں کے قتل میں ملوث قاتلوں کو سزائیں دی جائیں اور عوام کے جان و مال اور کول مائنز کے کاروبار کے تحفظ کو یقینی بناکر بھتہ گیری کا خاتمہ کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں