کوئٹہ پریس کلب میں مختلف جامعات کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے طلبہ کیلئے ڈیجیٹل جرنلزم پر تربیتی ورکشاپ
کوئٹہ (این این آئی) کوئٹہ پریس کلب میں مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والے میڈیا ڈریپاٹمنٹ کے طلباءکیلئے پیس فلیکس کی جانب سے ایک روزہ ڈیجیٹل جرنلزم اور ایکٹیوزم پر تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی کوئٹہ پریس کلب کے صدر عبدالخالق رند تھے۔ ورکشاپ میں ڈیجیٹل ایکٹیوزم پیس ڈیلویپمنٹ صحافتی اخلاقیات آن لائن صحافت اور نفسیاتی مسائل کے حوالے سے آگاہی فراہم کی گئی پروگرام کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے صدر کوئٹہ پریس کلب عبدالخالق رند نے شرکاءکو بتایا کہ ریڈیو اخبار اور الیکٹرانک میڈیا کے بعد اب ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے وقت کے ساتھ صحافت بھی ترقی کے مراحل طے کررہی ہے جسکے لئے فیلڈ میں کام کرنے و الے اور نئے آنیوالے صحافیوں کو تیاری کرنا ہوگی ورکشاپ کے دوران جامعہ بلوچستان کے میڈیا اسٹیڈیز ڈریپاٹمنٹ کے لیکچرار عمران خان نے صحافتی اخلاقیات اور میڈیا قوانین سے متعلق آگاہی فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ صحافتی اخلاقیات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا بطور صحافی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بغیر کسی جانبداری کے خبر کو رپورٹ کیا جائے میڈیا ٹرینر منظور احمد نے شرکاءکو ڈیجیٹل ایکٹیوزم کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ دور جدید میں سوشل میڈیا کسی بھی مسئلے پر آواز اٹھانے کا بہترین پلیٹ فارم ہے نوجوان صحافی دور جدید کے میڈیا کو استعمال میں لاکر معاشرتی مسائل کے حل میں کردار ادا کرسکتے ہیں میڈیا ٹرینر عاصم احمد نے ڈیجیٹل میڈیا سے متعلق بتایا کہ طلباءاور نوجوان صحافی آن لائن ٹولز کو استعمال کرکے جدید تقاضوں کے مطابق رپورٹنگ کر سکتے ہیں ۔عاصم احمد نے شرکاءکو جدید ٹولز کے استعمال کا طریقہ کار بھی بتایا ۔شرکاءسے سائیکلوجسٹ سعدیہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہیش ٹیگ اور ذاتی نوعیت کے الزامات کی وجہ سے نفسیاتی مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے جسکے حل کیلئے ناصرف آگاہی کے ساتھ ذمہ داری کی بھی ضرورت ہے ڈیجیٹل دور میں نفسیاتی مسائل بھی بڑھ رہے ہیں جن کو سمجھنا ضرور ہے ۔پیس فلیکس کی جانب سے ورکشاپ کے منتظم محمد غضنفر نے شرکا ءکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سیشن کا مقصد زیر تعلیم اور پاس آو¿ٹ ہونے والے طلباءکو امن، اخلاقیات اور سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق آگاہی فراہم کرنا تھا۔ ورکشاپ کے اختتام پر میڈیا ڈریپاٹمنٹ کے طلباءزینب، رومیسا ،سکینہ ،لائبہ ۔شاہ فیصل ،لیاقت، رفیق و دیگر نے کہا کہ اس طرح کے تربیتی پروگرام مزید ہونے چاہئیں تاکہ نئے آنیوالے چیلنجوں سے طلباءآگاہی کے ساتھ تیار ہوں۔


