بھارتی سرحد پر چینی فوج کی دراندازی، بڑی جنگ کا خطرہ ظاہر کررہا ہے، بھارتی آرمی چیف

نئی دہلی: بھارت کے آرمی چیف نےکہا ہے کہ بھارتی سرحد پر چینی فوج کی در اندازی سرحدی کشیدگی میں اضافے کی وجہ سے بڑے تنازعہ کا سبب بن سکتی ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پونہ یونیورسٹی اور نئی دہلی میں واقع سینٹر فار چائنا اینالسس اینڈ سٹریٹجی کے زیر اہتمام چین کا عروج اور دنیا پر اس کے اثرات کے موضوع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی آرمی چیف جنرل منوج پانڈے نے کہا چین اور امریکہ میں طاقت کی دشمنی اس وقت دہلی اور بیجنگ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو متاثر کر رہی ہے۔انہوں نے پیپلزلبریشن آرمی کو انڈیا کے ساتھ سرحدی معاہدوں کی خلاف ورزی کا ذمہ دار بھی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشرقی لداخ میں ایل اے سی کے بارے میں مختلف تاثرات کے باعث فوجوں کے درمیان سرحدی علاقوں پر تنازعات اور متنازع دعوے بدستور موجود ہیں۔بھارتی آرمی چیف نے کہا سرحدی خلاف ورزیاں کشیدگی میں اضافے کا ایک ممکنہ محرک بنی ہوئی ہیں، اس لیے بارڈر منیجمنٹ کی خاطر انتہائی سخت نگرانی کی ضرورت ہے کیونکہ بارڈر منیجمنٹ میں خامیاں بہت بڑے تنازعات کا باعث بن سکتی ہیں۔جنرل پانڈے نے کہا ایل او سی سے متعلق 4 معاہدوں کی خلاف ورزی سے ہمارے خدشات میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے انڈین فوج نے شمالی سرحدوں پر چین کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی افواج کو دوبارہ متوازن کیا ہے اور ہمارے پاس کافی ذخائر ہیں اور ہم کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ ایک اور اہم تبصرے میں جنرل پانڈے نے کہا کہ چین جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے پیش نظر سیاسی، اقتصادی، تکنیکی اور عسکری طاقت کے طور پر اپنے عروج کے ساتھ نئے عالمی نظام میں لیڈر بننے کا ارادہ رکھتا ہے۔بھارتی آرمی چیف کا کہنا تھا بحیرہ جنوبی چین میں اس کی مداخلت، سمندری دعوں پر بین الاقوامی ٹریبونل کے فیصلوں کو مسترد کرنا، آبنائے تائیوان میں سرگرمیاں اور ایل اے سی پر کارروائیوں سے یہ بات واضح ہے کہ چین کی جانب سے بین الاقوامی قوانین پر مبنی نظام کی تشریح جس کی لاٹھی اس کی بھینس پر منحصر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں