پاکستان میں 40 برس آمریت رہی، کسی عدالت نے آمر کیسامنے کھڑا ہونے کی جرات نہیں کی، مریم نواز
راولپنڈی (صباح نیوز) پاکستان مسلم لیگ( ن)کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان اور ان کے سہولت کاروں نے ایک ٹائم لائن رکھی ہوئی ہے کہ ستمبر میں اگلا چیف جسٹس آنا ہے تو اس پہلے پہلے جو سہولت کاری کرنی ہے کرلو، پوری قوم یہ تماشا دیکھ رہی ہے، اقلیتی فیصلہ تو فیصلہ ہی نہیں ہوتا اسے ماننا کیسا، صاف اور شفاف فیصلے ہوں گے تو توہین نہیں ہوگی، ہم بھی آئین کی طرح کہتے ہیں الیکشن وقت پر ہوں گے۔راولپنڈی میں مسلم لیگ (ن)کے وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے رہنما مریم نواز نے کہا کہ پاکستان کی 76 سالہ تاریخ میں 40 برس آمریت رہی ہے، کسی منتخب وزیراعظم نے اپنی مدت کبھی پوری نہیں کی، 4 ڈکٹیٹر آئے جنہوں نے دھونس سے 10، 10 سال اقتدار میں رہے لیکن کبھی کسی عدالت نے کسی آمر کے سامنے کھڑے ہونے کی جرات نہیں کی، طاقت کے آگے بھی سر جھکایا، آمروں کے آگے بھی سر جھکایا۔انہوںنے کہا کہ نواز شریف کو دفتر سے نکالا گیا ان پر، مجھ پر اور پارٹی کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم ہوئے تو ہر پیشی پر وکلا بڑی تعداد میں موجود ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ منتخب وزرائے اعظم کو نکالتے رہے، سزائے دیتے رہے لیکن کبھی کسی عدالت نے اتنی ہمت نہیں دکھائی کہ کسی ڈکٹیٹر کو بھی کٹہرے میں لا کر کھڑا کرے۔انہوں نے کہا کہ ستم ظریفی یہ نہیں کہ کسی ڈکٹیٹر کے آگے کھڑے نہیں بلکہ انہیں توثیق دی کہ ڈٹ کر حکومت کریں، جب نکالا، دھمکایا منتخب وزیراعظم کو دھمکایا۔چیف آرگنائزر مسلم لیگ (ن)نے کہا کہ جب پی سی او اور ایل ایف او کے نیچے ججز حلف اٹھا رہے ہوتے تھے تو منتخب وزیراعظم کو ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگایا کر عدالت میں لے کر جایا جاتا تھا۔انہوںنے کہا کہ آپ کا زور صرف عوام کے وزیراعظموں پر چلتا ہے؟ کیا کبھی کسی نے دیکھا کہ کسی ڈکٹیٹر کو سیسلین مافیا، گاڈ فادر کا لقب ملا؟ آپ نے دوام دیا ڈکٹیٹر شپ کو، کبھی آمریت کا راستہ روکنے کی ہمت نہیں کی جب روکا منتخب وزیراعظم اور جمہوریت کا راستہ روکا۔ انہوں نے کہا ڈکٹیٹرز کو جب بھی نکالا وکلا اور عوام نے نکالا۔ مریم نواز نے کہاکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک جج نے جرات کی سیٹھ وقار، جن کا نام پاکستان کی تاریخ میں زندہ رہے گا کہ انہوں نے ایک ڈکٹیٹر کو سزا سنائی لیکن پھر کیا ہوا کہ اس عدالت کو ہی صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ مریم نوازنے کہا کہ جب الیکشن کا کیس چل رہا تھا تو سننے کو ملا کہ چیف جسٹس جذباتی ہوگئے، آپ کو اس وقت بھی جذباتی ہونا چاہیے تھا جب منتخب وزیراعظم کو دفتر سے نکالا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت آپ جذباتی نہیں ہوئے کہ جب آئین و قانون پر چلنے کی پاداش میں آپ کے بھائی جج اور ان کے اہلِخانہ کو سڑکوں پر رلنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ، پوری قوم نے دیکھا کہ چونکہ وہ حق اور آئین و قانون پر چلنے والے جج تھے وہ اس لئے ان کے،عمران خان کے راستے کی رکاوٹ تھے۔مریم نواز نے کہا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی جنہوں نے جنرل فیض کے ہاتھوں یرغمال بننے سے انکار کردیا اور اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی کے آگے دیوار بن کر کھڑے ہوگئے کہ ناانصافی نہیں کروں گا اور ریٹائر ہوگئے لیکن ان کا کیس ابھی تک سپریم جوڈیشل کونسل میں لٹکا ہوا ہے، چیف جسٹس آپ کو اس وقت بھی جذباتی ہونا چاہیے تھا۔ان کا کہنا تھا میں چیف جسٹس سے یہ کہنا چاہتی ہوں کہ کسی نظریے کسی اصول کے لیے جیل جانا کتنے بڑے فخر کی بات ہے، میں 2مرتبہ سزائے موت کی چکیوں میں رہ کر آئی ہوں لیکن ایک دن نہیں روئی نہ پچھتائی کیوں کہ مجھے معلوم تھا حق کا راستہ کبھی آسان نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ جن کے کوئی اصول نہیں ہوتے، کوئی مشن نہیں ہوتا، اصول موقف نہیں ہوتا وہ چارپائی کے نیچے سے نہیں نکلتے۔مریم نواز نے کہا کہ چیف جسٹس آپ نے شہباز شریف سمیت ساری حکومت کو یہ طعنہ تو دے دیا کہ کل جیل میں تھے اور آج پارلیمان میں تقریریں کررہے ہیں ذرا یہ بھی کہا ہوتا کہ کچھ ایسے بزدل بھی ہیں کہ جب ان کے پاس عدالتی حکم نامہ آتا ہے تو وہ چارپائی کے نیچے سے نہیں نکلتے۔بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب آپ کو یہ بھی کہنا چاہیے تھا کہ جو جیلیں بھگت کر آئیں ہیں انہوں نے جھوٹے مقدمے بھی بھگتے اور آپ کی ناک کے نیچے بھگتے، یہ جانتے ہوئے کہ مقدمے سیاسی اور انتقامی ہیں، ہماری 200 سے زائد پیشیاں ہیں کونسی عدالت ہے جس میں مسلم لیگ (ن)نہیں رلتی رہی۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی ایسی عدالت نہیں جس کے سامنے آپ نے چکر نہیں لگوائے پھر بھی غلط سزائیں بھی کاٹیں لیکن قانون کے سامنے پیش ہو کر مثال قائم کی یہ وہی کرتے ہیں جن کا دامن صاف ہوتا ہے۔رہنما مسلم لیگ (ن)نے کہا کہ عمران خان کی ذاتی زندگی سے مجھے کوئی سروکار نہیں لیکن فارم بھر کر الیکشن لڑتے رہے اور اپنی بیٹی کو ظاہر نہیں کیا، یہ جھوٹ تم نے قوم سے بولا ہے اس لیے حساب ہوگا، ایک وزیراعظم کو اقامہ پر نکالا جاسکتا ہے تو اگلے امیدوار وزیراعظم کو اتنا بڑا جھوٹ بولنے پر نکالا نہیں جاسکتا۔ان کا کہنا تھا کہ آج بھی مجھے ڈرایا جاتا کہ تم سیدھی بات کرتی ہو توہین عدالت لگ جائے گی، میں کہتی ہوں لگتی ہے تو لگادو، اس رزق سے موت اچھی جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی۔ انہوں نے کہا کہ میں تو اس وقت نااہل ہوگئی تھی جب میں نے ایک بلدیاتی الیکشن بھی نہیں لڑا تھا، تو نااہلی سے ہمیں نہیں ڈرا تمہیں منہ پر کالا ڈبہ پہن کر آنے والوں کی عادت ہوگئی ہے۔مریم نواز نے کہا کہ جب عدالت بلاتی ہے تو کونسا بہانہ ہے جو یہ جماعت نہیں کرتی کوئی آکسیجن ماسک لگا لیتا ہے، کوئی ہسپتال لے بیڈ پر بیٹھ جاتا ہے کوئی ٹانگ پلاسٹر چڑھا لیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس کی آڈیو لیک ہوئی جس میں وہ تحریک انصاف کے وکیل کو کہہ رہے ہیں کہ مریم کے خلاف کوئی دھماکا کرو تو مجھے پہلے بتادینا تو جو ریٹائر ہو کر یہ کررہے ہیں وہ اپنی کرسیوں پر جب بیٹھے تھے اس وقت کیا کررہے ہوں گے۔ہم ایسا انتقام، بغض اور ظلم بھگت کر آئے ہیں اور آج بھی ڈرے نہیں، حق کی بات کررہے ہیں، لگانی ہے توہین عدالت تو لگادو۔انہوں نے کہا کہ بات صرف اتنی ہے کہ چونکہ مقدمات اصلی ہیں تو کہیں لاڈلے کو سزا نہ ہوجائے کیوں کہ عمران خان اور ان کے سہولت کاروں نے ایک ٹائم لان رکھی ہوئی ہے کہ ستمبر میں اگلا چیف جسٹس آنا ہے تو اس پہلے پہلے جو سہولت کاری کرنی ہے کرلو، پوری قوم یہ تماشا دیکھ رہی ہے۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ آپ کس شخص کو واپس لانا چاہتے ہیں؟ وہ جو چار سال مسند اقتدار میں بیٹھ کر بس یہ سوچتا تھا کہ کس کا پنکھا، بلب کب اتارنا ہے اے کب نکالنا ہے، وہ انتقام میں اندھا شخص ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج آپ کہتے ہوں مہنگائی ہے آٹے کی لائنیں لگی ہوئی ہیں نہیں بلکہ مفت آٹے کی لائن لگی ہوئی ہے، جو لوگ لے کر جا رہے ہیں وہ ہاتھ اٹھا کر شہباز شریف کو دعا دیتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ10 سال خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت رہی لیکن ایک نیا مصوبہ نہیں بنا، بنی تو پی ٹی آئی کے وزرا کی تقدیر بنی، کرپشن کی ہوش ربا داستانیں ہیں اور غضب یہ کہ احتساب کے اداروں کو 5 سال کے لیے تالا لگادیا۔ رہنما مسلم لیگ (ن)نے کہا کہ آپ آئین کے محافظوں میں سے ہیں، آپ کو اللہ نے انصاف کی سب سے بڑی کرسی پر بٹھایا ہے اور آپ نے کیا کہ 25 ارکان عمران خان کو دینے آئین کو ہی فارغ کردیا اور پھر پنجاب کی حکومت اسے پلیٹ میں رکھ کر دی کہ لو اسے توڑ دو کیوں کہ ٹائم لائن بنائی ہوئی ہے کہ انتخابات اس وقت تک ہونے ہیں جب تک اوپر سہولت کار بیٹھے ہیں۔


